انوارالعلوم (جلد 24) — Page 470
انوار العلوم جلد 24 470 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار ارشاد پر خود مٹی ڈالی ہے اور اس طرح مسلمانوں میں ایک ناپسندیدہ رواج پڑ جاتا اور دوسرے مذاہب کے لوگ ہنستے اور مذاق اڑاتے کہ یہ کیا اسلام ہے جس میں عورتوں کے مونہوں پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔پس تاریخ کے متعلق یہ مانی ہوئی بات ہے کہ اس میں اس قسم کی غلطی کا پایا جانا ممکن ہے لیکن ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ یورپین مصنفین اپنے متعلق اور قوانین وضع کرتے اور ہمارے متعلق اور قوانین بتاتے ہیں۔یہ طریق غلط ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ سماعی باتوں میں فرق ضرور ہوتا ہے اور سننے والے کچھ کا کچھ سمجھ لیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ایک طریق ایسا بھی ہے کہ جس کے ذریعہ غلطی سے بچا جا سکتا ہے اور وہ طریق یہ ہے کہ روایت میں غلطی راوی کی وجہ سے پڑتی ہے لیکن ایک شخص کے متعلق جب ہم کئی واقعات سنتے ہیں تو اس کے متعلق ہم معلوم کر لیتے ہیں کہ اس کا کیریکٹر یہ ہے اور جب کسی کے کیریکٹر کا علم ہو جائے تو علم النفس کے ذریعہ ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ کونسا واقعہ سچا ہے اور کونسا غلط اگر کوئی واقعہ اس کے کیریکٹر کے مطابق ہے تو ہم کہیں گے یہ واقعہ سچا ہے اور اگر کوئی واقعہ اس کے کیریکٹر کے خلاف ہے کہیں گے یہ واقعہ غلط ہے مثلاً اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص دیانت دار ہے تو اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ کسی کا روپیہ لے کر بھاگ گیا ہے تو ہم کہیں گے یہ بات یہ محض دشمنی کی وجہ سے کہا گیا ہے ورنہ یہ بات اس کے کیریکٹر کے خلاف ہے گویا جب ہم سائیکالوجی کے نیچے اسے لائیں گے تو یہ ایک علم بن جائے گا چنانچہ اسلامی تاریخ پر میرا ایک لیکچر چھپا ہوا موجود ہے۔جس کا نام ”اسلام میں اختلافات کا آغاز “ ہے۔میں نے اس ٹیچر میں اس بات پر بحث کی ہے کہ اسلام میں اختلافات کا آغاز کس طرح ہوا۔اس لیکچر کے صدر پروفیسر سید عبد القادر صاحب تھے۔میں نے ان کی صدارت میں مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور میں تقریر کی اور اپنے نقطہ نگاہ سے اسلامی تاریخ کے اس حصہ کو اس طرح بیان کیا کہ جس طرح مکھن سے بال نکال لیا جاتا ہے۔اسی طرح صحابہ کو میں نے ان تمام الزامات سے بری ثابت کیا جو ان پر لگائے جاتے تھے۔میرا وہ لیکچر اب بھی پروفیسروں کے زیر نظر رہتا ہے اور بعض کالجوں میں تو غلط ہے یہ -