انوارالعلوم (جلد 24) — Page 441
انوار العلوم جلد 24 441 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفات۔اس کے یہ معنے ہیں کہ استاد نالائق ہے اور شاگر د اچھا ہے۔ممکن ہے میرے ذہن میں بھی ان کے خلاف بعض باتیں ہوں لیکن تمہارے نقطہ نگاہ سے یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ استاد کے مقابلہ میں شاگرد کو زیادہ ووٹ تم نے کس طرح دے دیئے۔جب طاہر احمد کے مقابلہ میں اُس کا استاد موجود تھا تو اس کو کم ووٹ کیوں دیئے۔پھر قریشی عبدالرشید صاحب ہیں۔قریشی صاحب خدام الاحمدیہ کے پرانے ورکر ہیں ان کو بھی انتخاب میں دوسروں سے نیچے گرا دیا گیا ہے۔میں گراتا تو اس کی کوئی وجہ ہوتی۔جو وجوہات میرے پاس ہیں وہ تمہارے پاس نہیں۔یہ لوگ میرے ساتھ کام کرتے ہیں اس لئے مجھے ان کے نقائص اور خوبیوں کا علم ہے لیکن تمہارے گرانے کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تم نے طاہر احمد کو محض صاحبزادہ سمجھ کر ووٹ دے دیئے ہیں اور اگر ایسے اہم معاملات میں محض صاحبزادگی کی بناء پر کسی کو ترجیح دے دی جائے تو قوم تو ختم ہو گئی۔انتخاب کے لئے کام اور قابلیت دیکھی جاتی ہے صاحبزادگی نہیں دیکھی جاتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحیح طور پر وہی لوگ کام کر سکتے ہیں جو میرے قریب ہوں اور اگر تم نے یہ دیکھا ہے کہ کسی کو مجھ سے ملنے کا موقع زیادہ مل سکتا ہے تو یہ بات اچھی ہے لیکن اس بات کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہر ایک کا حق ہے کہ وہ اس عہدہ پر کام کرے۔اگر ایک شخص کو مجھ سے ملاقات کا موقع زیادہ ملتا ہے اور دوسرا اس سے زیادہ قابل ہو تو ترجیح اس شخص کو دی جائے گی جو قابل ہو گا۔پس یہ انتخاب یا تو جنبہ داری کی وجہ سے ہوا ہے اور یا اس میں بھیڑ چال سے کام لیا گیا ہے۔اگر تمہیں کسی سے محبت ہے تو اس سے محبت کرنے کے اور ذرائع استعمال کرو۔اسے تحفے دو، اس سے باتیں کرو، اس سے تعلقات بڑھاؤ لیکن اسلام تمہیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ تم محض محبت اور پیار کی وجہ سے کسی کا حق دوسرے کو دے دو۔جو مال سلسلہ کا ہے وہ چاہے کوئی رشتہ دار ہو یا دوست تم محض دوستی یا رشتہ داری کی وجہ سے کسی کو نہیں دے سکتے۔پچھلی دفعہ بھی تم نے ایسا ہی کیا۔تم نے مرزا خلیل احمد کو منتخب کر لیا اور وہ آج تک امتحان میں فیل ہو رہا ہے۔کلاس سے نہیں نکلا۔اور تم نے اسے آج سے چار سال قبل اپنا صدر منتخب کر لیا تھا اور میں نے وہ انتخاب