انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 348

انوار العلوم جلد 24 348 مولانا شوکت علی کی یاد میں پاکستانی لیڈروں میں سے ایک ہے۔مولانا محمد علی کی تقریر کے بعد کھڑے ہو کر اس نے بڑے لطیف پیرائے میں یہ بات بیان کرنا شروع کی کہ کچھ سال پہلے ایک مسلم لیڈر نے علی گڑھ کالج میں تقریر کی تھی اور اس نے یہ بتایا تھا کہ بعض لوگ یہ دلائل مسلمانوں کو ہندوؤں سے بگاڑنے کے لئے دیتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔مجھے حیرت ہوئی کہ آج میں یہی دلائل مولانا محمد علی کے منہ سے سن رہا ہوں۔مولانا محمد علی ان کی یہ تقریر سنتے رہے اور مسکراتے رہے کیونکہ جس بزرگ کی علی گڑھ والی تقریر کا اس نے ذکر کیا تھا وہ خود مولانا محمد علی تھے۔مگر مولانا شوکت علی برداشت نہ کر سکے اور کھڑے ہو گئے بڑے زور سے اس کے خیالات کی تردید کی اور بتایا کہ انسان خیالات بدلتا رہتا ہے کیونکہ بعض دفعہ اس کو کئی راز ایسے معلوم ہو جاتے ہیں جو اس کو پہلے سے معلوم نہ تھے۔اگر ایک وقت ہم نے قوم کا فائدہ کانگریس سے ملنے سے دیکھا تو ہم نے وہی بات کہہ دی کیونکہ ملک کے لئے وہی رائے مناسب تھی لیکن جب ہم نے دیکھا کہ ہندو قوم مسلمانوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں ہے تو ہم نے اپنی قوم کی قربانی پیش کرنے سے انکار کر دیا اور کانگرس سے الگ ہو گئے۔اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے۔مولانا محمد علی برابر مسکراتے رہے چونکہ اصل حالات کا علم نہیں تھا۔میں کچھ حیران سا ہوا۔بعض نے مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ بات کیا تھی ؟ انہوں نے کہا یہ مولانا محمد علی کی تقریر تھی جس پر یہ اعتراض کر رہا تھا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اندھا دھند ایک راستے کو اختیار کرتے جائیں اور یہ نہ دیکھیں کہ وہ راستہ کس طرف بند ہوتا ہے اور کس طرف کھلتا ہے۔بہر حال میرے لئے وہ نہایت لطیف نظارہ تھا کہ خود وہ شخص جس پر اعتراض ہو رہا تھا مسکرا رہا تھا اور جس کا کوئی ذکر نہ تھا وہ جوش میں آرہا تھا مگر اس کے یہ معنی نہیں مولانا محمد علی مرحوم کو غصہ نہ آیا کرتا تھا۔غصہ ان کو بھی آتا تھا لیکن ان باتوں کے بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مخلصانہ خدمات کو جو انہوں نے مسلمانوں کے لئے کی تھیں قبول فرمائے اور انہیں مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے اور مسلمانوں کو