انوارالعلوم (جلد 24) — Page 294
انوار العلوم جلد 24 294 سیر روحانی (7) صلح میں جو بھی وہ لوگ شرط کر لیں یا جتنے زائد حقوق لے لیں لے سکتے تھے۔انہوں نے سوچا کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے جس سے نرم شرائط پر صلح ہو جائے۔چنانچہ ایک دن ایک حبشی مسلمان پانی بھر رہا تھا اس کے پاس جاکر انہوں نے کہا کیوں بھئی ! اگر صلح ہو جائے تو وہ لڑائی سے اچھی ہے یا نہیں ؟ اس نے کہاہاں ! اچھی ہے۔وہ حبشی غیر تعلیم یافتہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر کیوں نہ اس شرط پر صلح ہو جائے کہ ہم اپنے ملک میں آزادی سے رہیں اور ہمیں کچھ نہ کہا جائے ہمارے مال ہمارے پاس رہیں اور تمہارے مال تمہارے پاس رہیں۔وہ کہنے لگا بالکل ٹھیک ہے۔انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دیئے۔اب اسلامی لشکر آیا تو انہوں نے کہا ہمارا تو تم سے معاہدہ ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگے معاہدہ کہاں ہوا ہے اور کیس افسر نے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے ہمیں کیا پتہ ہے کہ تمہارے کون افسر ہیں اور کون نہیں۔ایک آدمی یہاں پانی بھر رہا تھا اس سے ہم نے یہ بات کی اور اُس نے ہمیں یہ کہہ دیا تھا۔مسلمانوں نے کہا دیکھو ایک غلام نکلا تھا اُس سے پوچھو کیا ہوا؟ اُس نے کہا ہاں! مجھ سے یہ بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا وہ تو غلام تھا اُسے کس نے فیصلہ کرنے کا اختیار دیا تھا انہوں نے کہا ہمیں کیا پتہ ہے کہ یہ تمہارا افسر ہے یا نہیں۔ہم اجنبی لوگ ہیں ، ہم نے سمجھا یہی تمہاراجر نیل ہے۔اس افسر نے کہا میں تو نہیں مان سکتا لیکن میں یہ واقعہ حضرت عمر کو لکھتا ہوں۔حضرت عمرؓ کو جب یہ خط ملا تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ کے لئے یہ اعلان کر دو کہ کمانڈر انچیف کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں کر سکتا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک مسلمان زبان دے بیٹھے تو میں اُس کو جھوٹا کر دوں اب وہ حبشی جو معاہدہ کر چکا ہے وہ تمہیں ماننا پڑے گا۔ہاں آئندہ کے لئے اعلان کر دو کہ سوائے کمانڈر انچیف کے اور کوئی کسی قوم سے معاہدہ نہیں کر سکتا۔40 غیر مسلموں کے جذبات کا پاس پھر غیر مذاہب کے جذبات کا لحاظ اس حد تک کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی نے آکر شکایت کی کہ مجھے ابو بکر نے مارا ہے۔آپ نے حضرت ابو بکر کو بلایا اور فرمایا تم نے اس کو مارا ہے؟ کہنے لگے ہاں ! يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِس نے بڑی گستاخی کی