انوارالعلوم (جلد 24) — Page 293
انوار العلوم جلد 24 293 سیر روحانی (7) کسی بادشاہ یا بڑے آدمی کی ہتک کر بیٹھے تو وہ اُس کو مار نہیں سکتا۔حضرت عمرؓ نے اُس کی طرف دیکھا اور کہا۔(جبلہ اُس کا نام تھا) جبلہ ! تم کسی مسلمان کو مار بیٹھے ہو ؟ خدا کی قسم ! اگر مجھے پتہ لگا تو میں تمہیں اُسی طرح مرواؤں گا۔اُس نے اُس وقت تو بہانہ بنایا اور کہا۔نہیں نہیں ! میں نے تو کچھ نہیں کیا۔مگر یہ کہہ کر واپس گیا اور اُسی وقت گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے ملک کو واپس چلا گیا اور وہاں جا کر مرتد ہو گیا۔39 غور کرو! کتنی بڑی طاقت تھی ایک مزدور کے لئے۔ایک بادشاہ جاتا ہے اور کہتا ہے اس نے میری ہتک کی ہے تو حضرت عمر کہتے ہیں کہ تم نے اسے مارا ہے تو میں ضرور سزا دونگا۔خلافت راشدہ کے عہد میں راشن سیسٹم کا اجراء یہ وہ چیز تھی جو مسلمانوں نے اپنی حکومت میں کی۔راشن اور کپڑے کا سسٹم جاری ہوا، امیر اور غریب سب کے لئے حکم ہوا کہ اُن کو کپڑے ملا کریں گے اور کھا نا ملا کرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کہ جو راشن اور کپڑا ملا کرے گا اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ کیا جائے ہر مذہب و ملت کے آدمی کو اُس کا راشن دیا جائے۔ایک بادشاہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہوا تو اس نے کہلا بھیجا کہ میرے پاس ایسے لوگ ہیں جو غیر مذاہب کے ہیں میں اُن کے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا اُن کے ساتھ انصاف کا سلوک کرو پیار کا سلوک کرو اور اگر تمہارے پاس ایسے لوگ ہوں چاہے ہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم کہ اُن کے پاس کافی زمین وغیرہ نہ ہو اور کافی غلہ نہ پیدا کر سکتے ہوں تو پھر سرکاری خزانہ سے انہیں غلہ مہیا کرو۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام کے معاہدہ کا احترام زمانہ میں ایک دشمن فوج گھر گئی اور اُس نے سمجھ لیا کہ اب ہماری نجات نہیں ہے اسلامی کمانڈر دباؤ سے ہمارا قلعہ فتح کر رہا ہے اگر اُس نے فتح کر لیا تو ہم سے مفتوح ملک والا معاملہ کیا جائے گا۔ہر مسلمان مفتوح ہونے اور صلح کرنے میں فرق سمجھتا تھا۔مفتوح کے لئے تو عام اسلامی قانون جاری ہوتا تھا اور