انوارالعلوم (جلد 24) — Page 285
انوار العلوم جلد 24 285 سیر روحانی (7) وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ اور چونکہ یہ دنیا میں پھر خدا کی حکومت قائم کریں گے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کو لڑائی کی اجازت دے دی جائے۔اسلام آزادی ضمیر کو کچلنے کی اجازت نہیں دیتا یہ قرآن کریم نے ہمیں آئندہ کے لئے سبق دیا ہے صرف اُس زمانہ کی بات نہیں بلکہ قرآن شریف نے پیشگوئی بیان کی ہے اور اِس میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ بتایا ہے کہ اگر مسلمان بچے طور پر مسلمان بنیں اور اس تعلیم پر عمل کریں جو خدا تعالیٰ نے بیان کی ہے اگر لوگوں کے ظلم برداشت کریں اور آپ ظالم نہ بنیں، حریت ضمیر دیں حریت ضمیر چھینیں نہیں، مسجدوں کو گرائیں نہیں، معبدوں کو بند نہ کریں بلکہ ہر ایک کو مذہب کی آزادی دیں دُنیا میں انصاف اور امن کو قائم رکھیں اور ہر ایک کو اس کا حق دیں تو كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ اللَّهِ الى کو اللہ تعالیٰ تھوڑے ہونے اور بے سامان ہونے کے باوجود زیادہ تعداد والوں اور سامان والوں پر غلبہ دے دیا کرتا ہے۔گویا اگر پاکستانی اِس قسم کے مسلمان بن جائیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اِنْ تَكُن مِّنكُم عِشْرُونَ طَبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُن مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا الْفَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ 35 یعنی اگر تم میں سے ہیں صابر ہوں تو وہ دو سو آدمی پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو ایسا ہو تو وہ ایک ہزار پر غالب آجائے کیونکہ وہ سمجھتے نہیں تم سمجھتے ہو ( میں آگے چل کر بتاؤ نگا کہ سمجھنے اور نہ سمجھنے کا مطلب کیا ہے) اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام قانون بتا دیا ہے۔کہ دس گنا طاقت پر مسلمان غالب آسکتے ہیں۔اب پاکستان کی آبادی کہتے ہیں سات کروڑ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر پاکستانی ایسے مسلمان بن جائیں تو ستر کروڑ کے ملک پر یہ غالب آسکتے ہیں اور دنیا میں ستر کروڑ کا کوئی ملک نہیں۔بڑے سے بڑا ملک چین ہے اُسکی بھی پچاس کروڑ کی آبادی ہے۔دوسرے نمبر پر ہندوستان ہے اُس کی تیس کروڑ کی آبادی ہے لیکن قرآن کریم کے حکم کے ماتحت اگر پاکستان کے مسلمان اس قسم کے مسلمان بن جائیں جیسے قرآن کہتا ہے کہ