انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 284

انوار العلوم جلد 24 284 سیر روحانی (7) دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَق وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بغیر کسی قصور کے نکالے گئے إِلَّا أَنْ يَقُولُوا ربنا الله۔ہاں ان کا ایک ہی قصور تھا کہ وہ کہتے تھے اللہ ہمارا رب ہے۔وہ اپنے زمانہ کے کامور کی بات کو مانتے تھے اور خدا کی بات کہتے تھے۔صرف اس بات پر لوگ کہتے تھے ان کو مارو۔وَلَوْلا دَفَعْ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِ مَنْ صَوَامِعُ اور اس لئے اُن کو اجازت دی جاتی ہے کہ یہ صرف اپنے خدا کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور اس زمانہ کی حکومت اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کو راضی نہیں کرنے دیں گے تم ہم کو راضی کرو۔دوسرے اس لئے کہ اگر یہ طریق ظلم جاری ہو جائے تو پھر قوموں میں ہمیشہ ہی لڑائی رہے گی۔عیسائی یہودی پر حملہ کرے گا اور کہے گا میں نہیں تم کو عبادت کرنے دیتا اور یہودی عیسائی کو کہے گا میں نہیں تم کو عبادت کرنے دیتا مسلمان کا فر کو کہے گا میں نہیں تم کو تیری عبادت کرنے دیتا کافر مسلمان کو کہے گا میں نہیں تم کو تیری عبادت کرنے دیتا پھر خدا کا نام دنیا میں کوئی بھی نہ لے گا اور خدا کا خانہ خالی ہو جائے گا۔آخر خدا کا نام مختلف قوموں نے لینا ہے مسلمان نے اپنے طور پر لینا ہے ، یہودی نے اپنے طور پر لینا ہے ، مجوسی نے اپنے طور پر لینا ہے ، ہندو نے اپنے طور پر لینا ہے اور اگر دوسرے کو خدا کا نام نہیں لینے دیں گے تو بات ختم ہوئی، کوئی بھی اُسکا نام نہیں لے گا۔تو فرماتا ہے اگر ہم یہ طریق اختیار نہ کریں کہ ایسے موقع پر لڑائی کی اجازت دے دیں تو لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ۔صَوَامِعُ اُن جگہوں کو کہتے ہیں جہاں لوگ عبادت کے لئے بیٹھتے ہیں جیسے ہمارے ہاں تکیے ہوتے ہیں۔بیع۔بیع نصاریٰ کی عبادت گاہوں کو کہتے ہیں۔وصَلَوت۔صلوۃ یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔عبرانی میں اُسے صلوۃ کہتے ہیں۔اور مسلمانوں کی مساجد جن میں خدا کا نام لیا جاتا ہے یہ سب توڑی جاتیں۔وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ اور جو لوگ خدا کا نام لینے والے ہیں وہ گویا خدا کے نام کو دنیا میں زندہ رکھ رہے ہیں اور جو خدا کے نام کو زندہ رکھے گا اُس کی خدا بھی مدد کریگا۔اِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ اور یقینا خدا بڑاز بر دست اور غالب ہے۔یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کو دنیا میں حکومت دی جائے تو یہ نمازیں قائم کریں گے اور ز کو تیں دیں گے اور امر بالمعروف کریں گے اور بُری باتوں سے لوگوں کو روکیں گے۔