انوارالعلوم (جلد 24) — Page 234
انوار العلوم جلد 24 234 سیر روحانی (7) تب میں نے سوچا کہ یہ جو نوبت خانہ بجا کر تا تھا اور جس سے وہ کناروں کو اطلاع دیا کرتے تھے کہ دشمن داخل ہو گیا ہے اس کے مقابلہ میں قرآن کا نوبت خانہ کیا کہتا ہے۔اس پر میں نے ان نوبت خانوں کے متعلق تو یہ دیکھا کہ جب دشمن کی فوجیں ملکی سرحدوں میں گھس آتی تھیں یا کم سے کم سرحدات تک آپہنچتی تھیں تو اس وقت نو بتیوں کو پتہ لگتا تھا اب دشمن آرہا ہے اور وہ نو بتیں بجانی شروع کر دیتے تھے۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ دشمن احتیاط سے اور اپنی فوجوں کو چھپا کر لاتا تو بعض دفعہ وہ سوسو میل اندر گھس آتا تھا پھر کہیں پتہ لگتا تھا کہ حملہ آور دشمن اندر گھس آیا ہے اور پھر اطلاع ہونی شروع ہوتی تھی۔اس طرح عام طور پر حملہ آور کچھ نہ کچھ حصے پر قابض ہو جاتا تھا اور پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کس وقت آیا ہے۔داخل ہونے کے بعد معلوم ہو تا تھا کہ دشمن اندر گھس آیا ہے مگر اس نوبت خانہ کو میں نے دیکھا کہ اسلامی حکومت کا ایک نائب اور خدا کا خلیفہ مکّہ مکرمہ میں پھر رہا ہے ، معمولی سادہ لباس ہے ، اُس کے ساتھی نہایت غریب اور بے کس لوگ ہیں، حکومت کا کوئی واہمہ بھی اُن کے ذہن میں نہیں ہے، ماریں کھاتے ہیں ، پلٹتے ہیں، بائیکاٹ ہوتا ہے ، فاقے رہتے ہیں، جائیدادیں اور مکان چھینے جارہے ہیں، غلاموں کو پکڑ کر زمین پر لٹایا جاتا ہے اور اُن کے سینوں پر لوگ چڑھتے ہیں، کیلوں والے بوٹ پہن کر اُن کی چھاتی پر کودتے ہیں۔اور نہ مکہ والوں کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ یہ کبھی بادشاہ ہو جائیں گے ، نہ اُن کے ذہن میں کبھی خیال آتا ہے کہ ہم کبھی بادشاہ ہو جائیں گے۔غرض ابھی بادشاہت کے قیام کا کوئی واہمہ بھی نہیں لیکن بادشاہت کے بننے سے بھی پہلے دشمن کے آنے کی خبر دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے تمہارے ملک پر حملہ ہونے والا ہے۔فرماتا ہے وَلَقَدْ جَاءَ الَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ - كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا كُتِهَا فَأَخَذْ نَهُمْ أَخْذَ عَزِيزِ مُقْتَدِدٍ - أَلْفَارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَيكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةُ فِي الزُّبُرِ أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ ودرو ވ منتَصِرُ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اذْهَى وَآمَةٌ - دہم نے موسی کے ذریعہ سے فرعون کو جو کہ مصر کا بادشاہ تھا اور بنی اسرائیل پر ظلم کیا کرتا تھا ڈرایا کہ دیکھو تم ہمارے بندے کے رُوحانی لشکر سے مقابلہ مت کرو ورنہ تمہیں نقصان پہنچے گا