انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 233

انوار العلوم جلد 24 233 سیر روحانی (7) دیکھنے کے لئے کہ تالیاں پٹی ہیں اور بادشاہ وہاں سے گزرا ہے۔بس اتنی اطلاع آئی تو خوش خوش وہاں سے آگئے کہ ہم بادشاہ کا جلوس دیکھنے کیلئے گئے تھے۔غرض یہ تین اغراض ان نوبت خانوں کی ہوا کرتی تھیں۔اول : سرحدات کی طرف سے مرکز کو اطلاع دینا کہ دشمن حملہ آور ہے۔دوم : مرکز کی طرف سے علاقہ کو اطلاع پہنچانا کہ بادشاہ یا اس کا ولی عہد بنفس نفیس اپنی فوج کے ساتھ کناروں کی فوجوں کی مدد کے لئے چل پڑا ہے۔تیسرے: یہ اطلاع دینا کہ بادشاہ سلامت آج دربار عام منعقد کر رہے ہیں اور عام اجازت ہے کہ لوگ آئیں اور بادشاہ کی زیارت کر لیں اور اگر قریب پہنچ جائیں تو اپنی عرضیاں بھی پیش کر لیں بلکہ بعض جگہوں پر انہوں نے بکس لگائے ہوئے تھے جن میں لوگ عرضیاں ڈال دیتے تھے اور بعض جگہ چھینکے لٹکا دیتے تھے جن میں لوگ عرضیاں ڈال دیتے تھے اور پھر بادشاہ انہیں پڑھ لیتا تھا۔گویا یہ تین باتیں تھیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے نوبت خانے بنائے جاتے تھے۔اور واقع میں اس نظارہ کا خیال کر کے خصو صاً انگریزوں کی کارو نمیشن (CORONATION) دیکھ کر دیکھنے والوں کو خیال آتا تھا کہ کیس طرح ہمارے مسلمان بادشاہ نکلتے ہونگے۔اور جس طرح ہمارے ہندوستانی دُور دُور دھکے کھاتے پھرتے ہیں اسی طرح اُس وقت انگریز سیاح آتے ہونگے تو دو دو میل پر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے کھڑے ہوتے ہونگے اور کہتے ہونگے ہم نے بھی بادشاہ کو دیکھنا ہے۔مگر آج یہ حالت ہے کہ انگریز تخت پر بیٹھتا ہے اور اُن پٹھان یا مغل بادشاہوں کی اولادیں دُور دُور تک دھکے کھاتی پھرتی ہیں بلکہ ہم نے دہلی میں دیکھا ہے کہ شہزادے پانی پلاتے پھر تے تھے اس طرح دل کو ایک شدید صدمہ ہوتا تھا۔قرآنی نوبت خانہ کا کمال لیکن جب خدا تعالیٰ نے مجھے توجہ دلائی کہ ان چیزوں کو تم کیا دیکھ رہے ہو ہم تم کو اس سے بھی ایک بڑا نوبت خانہ دکھاتے ہیں جو قرآن کریم میں موجود ہے اور وہ اِس سے زیادہ شاندار ہے