انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 206

انوار العلوم جلد 24 206 وہیں میر اہاتھ گر گیا اور اُس وقت یہ حالت ہوئی شرم کے مارے کہ مجھ سے واپس نہیں ہوا جاتا تھا۔تو کوئی وقت مارنے کا ہو تا ہے اور کوئی معاف کرنے کا ہوتا ہے۔کسی وقت انسان مار کے اصلاح کرتا ہے اور کسی وقت معاف کر کے اصلاح کرتا ہے۔یہ بے وقوفی کی بات ہوتی ہے کہ ایک ہی چیز کو انسان لے لے اور کہے کہ اسی طرح کرنا ہے۔اسلام نے ہم کو درمیانی تعلیم دی ہے۔تو سویلائزیشن تو ہے ہی اسلام میں۔سویلائزیشن اور کسی مذہب میں ہے کہاں کہ اس کا نام ہم کر سچن سویلائزیشن رکھیں سوائے اسلام کے کوئی سویلائزیشن نہیں مگر چونکہ عیسائیت غالب ہے اس لئے ہم اس کے پیچھے ناچتے ہیں۔پس تم کو ان چیزوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے اور اسلامی تہذیب کو دُنیا میں پھیلانا ہے۔دُنیا کے پاس جو کچھ ہے بے شک وہ بعض جگہ پر امن بھی ہے لیکن اس امن کے ہوتے ہوئے بھی وہ دنیا اندھیرے میں ہے جب تک اسلام کا نور ان لوگوں تک نہیں پہنچے گا اس وقت تک دُنیا کا اندھیرا دُور نہیں ہو سکتا۔سورج صرف اسلام ہے جو شخص اس سورج کے چڑھانے میں مدد نہیں کرتا وہ دنیا کو ہمیشہ کے لئے تاریکی میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسا انسان کبھی دُنیا کا خیر خواہ یا اپنی نسل کا خیر خواہ نہیں کہلا سکتا۔ہر احمدی نہیا کرلے کہ اُس نے اس وقت تک تحریک کے ذریعہ سے جو تبلیغ ہوئی ہے اس کے بہر حال تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے نتیجہ میں تیں پالیس ہزار آدمی عیسائیوں سے مسلمان ہو چکا ہے اور یہ طاقت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اسے مضبوط کرنا ہر احمدی کا فرض ہے بلکہ ہر مسلمان خواہ وہ احمدی نہ ہو اُس کا بھی فرض ہے کہ اس کام میں مدد دے۔اب چھوٹا کام ہونے کی وجہ سے مرکزی خرج تبلیغ سے نسبتا زیادہ ہوتا ہے اگر کام پھیل جائے تو یہ نسبت کم ہو جائے گی۔پس:۔اوّل تو یہ ضرورت ہے کہ ہر مبلغ کو ادھر اُدھر چلنے اور لیکچر دینے کے لئے اور ہال لینے کے لئے اور لٹریچر تقسیم کرنے کے لئے زیادہ امداد یہاں سے پہنچے۔