انوارالعلوم (جلد 24) — Page 205
انوار العلوم جلد 24 205 ایسا ہوتا ہے کہ اس کے منہ پر جب تک تھپڑ نہ ماریں اُس کی اصلاح نہیں ہوتی اور کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ مار نا اس کے لئے مضر ہو جاتا ہے۔میں نے کئی دفعہ قصہ سنایا ہے بچپن میں میرے پاس ایک کشتی تھی اس کو لڑکے چھیڑ ا کرتے تھے، لے جاتے تھے اور پھر اس پر کودتے تھے۔اپنی طرف سے گویا کھیلتے تھے مگر در حقیقت توڑتے تھے۔آٹھ اِدھر بیٹھ گئے آٹھ اُدھر بیٹھ گئے اور پانی میں غوطہ دے دیا۔میں جاؤں تو ہر روز دیکھوں کہ کشتی خراب ہو گئی ہے۔میرے جو دوست سکول میں پڑھتے تھے میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا آپ کو پتہ نہیں اسے تو دو پہر کے وقت لڑکے لے جاتے ہیں اور اسے خوب خراب کرتے ہیں۔میں نے کہا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا تم اب مجھے بتانا۔اُنہوں نے کہا اچھا۔دوسرے تیسرے دن عصر کے قریب بھاگا بھاگا ایک لڑکا آیا کہنے لگا چلو اب وہ کشتی لے گئے ہیں۔میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کشتی ڈھاب میں لے گئے ہیں، دس دس لڑکے اس پر سوار ہیں اور کچھ بیچ میں لٹکے ہوئے ہیں اور اس پر چھلانگیں لگاتے ہیں۔کوئی مٹی ڈالتا ہے، کوئی پانی پھینکتا ہے غرض ایک کھیل مچائی ہوئی ہے جیسے فٹ بال ہوتا ہے۔مجھے سخت غصہ آیا میں نے اُن کو آواز دی کہ ادھر آؤ چونکہ ان میں سے کوئی قصائی تھا، کوئی نائی اور گاؤں میں ہماری حکومت تھی وہ مجھ سے ڈر کر بھاگے حالانکہ وہ میرے قابو میں نہیں آسکتے تھے وہ مجھے سے دوسری طرف تھے لیکن میری اس آواز کا رُعب ایسا پڑا کہ وہ بے چارے چپکے سے کشتی لے آئے اور کچھ بھاگ گئے۔جوں جوں وہ آتے چلے جائیں انہیں ڈر آتا جائے کہ اب ہمیں مار پڑے گی۔آخر کود پڑے اور تیر کر نکل گئے۔صرف ایک لڑکا رہ گیا اور وہی لیڈر تھا اُن کا۔وہ جس وقت کنارے پر کشتی لایا تو میں غصے میں اس کی طرف گیاوہ زیادہ مضبوط تھا اور مجھے غرور تھا اپنے مالک ہونے کا۔میں نے زور سے اُس کو مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا۔اس پر اُس نے اپنا منہ بچانے کے لئے ہاتھ آگے رکھ دیا۔جب اُس نے ہاتھ رکھا تو مجھے اور غصہ چڑھا اور میں اُسے مارنے کے لئے ہاتھ پیچھے لے گیا۔جب میں تھوڑی دُور تک لے گیا تو اُس نے ہاتھ نیچے کر لیا اور کہنے لگا کہ مار لو۔بس اُس کا یہ فقرہ کہنا تھا کہ