انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 182

انوار العلوم جلد 24 182 کر لے تو ہم کو اُس کے مقابلہ میں نرمی سے کام لینا چاہئے۔علمی رنگ کے نئے نئے ہمیں چاہئے کہ ہمارے اخبار اور ہمارے رسالے مضامین لکھنے کی ضرورت لکھنے والے اور ہمارے جو تعلیم یافتہ لوگ ہیں وہ زیادہ سے زیادہ علمی مضامین کی طرف توجہ کریں اسلام کے بہت سے حصے تشنہ تحقیق ہیں۔اُن پر صدیوں تک ابھی نئے مضمون لکھے جاسکتے ہیں اور اس عرصہ میں ہزاروں مسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔غرض صرف تحریص و ترغیب پر نہ رہا جائے یہ خلیفہ کا کام ہے۔خطبے چھپتے رہتے ہیں اُن میں تحریص و ترغیب ہو جاتی ہے۔زیادہ علمی امور کی طرف تحقیق کے ساتھ توجہ کی جائے اور نیا علم پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ہر پرانے مسئلہ کے متعلق نئے نئے دلائل نکالے جاسکتے ہیں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوتا جس کے متعلق نئی دلیلیں نہ لائیں اور نئے زاویہ نگاہ نہ پیدا کئے جائیں۔جتنے مسئلے آج تک ہزاروں سال سے چلے آرہے ہیں اُن پر نئے نئے مضمون نکل رہے ہیں۔آخر مسلمانوں نے عصمت انبیاء کے متعلق بہت کچھ لکھا تھا حضرت صاحب نے آ کے نیا ہی مضمون کھول دیا۔مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں بڑے قصائد لکھے تھے مگر حضرت صاحب کے قصائد نے بالکل ہی مضمون بدل دیا۔لوگوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے کیریکٹر کو بڑے بڑے عمدہ رنگ میں پیش کیا تھا پر حضرت صاحب نے آکے اُس کو ایسا رنگ دے دیا کہ معلوم ہوا دنیا نے ابھی توجہ ہی نہیں کی تھی۔تو یہ خیال کر لیا کہ یہ پامال مضمون ہے ، یہ پرانے مضمون ہیں یہ غلط ہے۔اگر تحقیق سے دیکھا جائے تو ہر مضمون میں ایک جدت پیدا کی جاسکتی ہے اور نئے نئے رنگ میں اُس مضمون کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔مثلاً مسیح کا واقعہ ہے مسیح کی وفات کے ہم قائل ہیں ہم نے قرآن سے اس پر بحث کی ہے اور ابھی قرآن کی بیسیوں آیتیں اور نکل آئیں گی جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔ہم نے حدیث سے بحث کی ہے پر حدیثیں بیسیوں اور نکل آئیں گی جن سے وفات مسیح ثابت ہوتی ہے۔ہم نے علماء کے اقوال پر غور کیا پر علماء تو لاکھوں گزرے ہیں اور لاکھوں کتابیں ہم تک نہیں