انوارالعلوم (جلد 24) — Page 181
انوار العلوم جلد 24 181 ار در گرد۔اس کے جو ساتھی تھے، دوست تھے اور جھپٹے حضرت حمزہ پر۔لیکن حضرت حمزہ کی بھی قوم بڑی تھی۔ابو جہل سمجھ گیا کہ یہاں تو آج مکہ میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔اُس نے کہا نہیں۔خیر مجھ سے ہی غلطی ہو گئی تھی جانے دو۔7 تو دوسروں سے الجھنے میں کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔حمزہ اِس بات کے اوپر سیدھے گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں گئے۔دروازہ کھٹکھٹایا۔آپ نے ایک صحابی سے کہا پوچھو کون ہیں؟ کہنے لگے حمزہ۔آپ نے فرمایا حمزہ شکار چھوڑ کے کدھر کو آنکلے ؟ انہوں نے کہا شکار چھٹ گیا اب میں آپ کا شکار بن کے آ گیا ہوں اور اُسی وقت کلمہ پڑھ کے وہ مسلمان ہو گئے اور پھر کہا یا رسول اللہ ! کب تک آپ اِس گھر میں بیٹھیں گے اور ان سے ڈریں گے خدا کی قسم! میں خانہ کعبہ میں خون کی ندیاں بہا دونگا اگر کچھ کہیں۔چلئے مسجد میں چل کر نماز پڑھیئے۔آپ نے فرمایا نہیں ابھی وقت نہیں آیا۔تو یہ چیز کتنا اخلاق پیدا کرتی ہے۔حمزہ کا اسلام اور بعد میں عمرہ کا اسلام در حقیقت اُس قربانی کا نتیجہ تھا، اس صبر کا نتیجہ تھا جو مسلمانوں نے دکھایا۔ہمارے اخباروں کو بھی چاہئے کہ ایسے موقع پر صبر سے کام لیں۔اگر کوئی سختی کرتا ہے تو چپ کر رہیں۔آخر گالی سے ہمارے خلاف تو کوئی نتیجہ نکلتا نہیں لیکن گالی کو برداشت کرنے سے ہماری تائید اُن میں ضرور پید اہو گی۔تو بلاوجہ ہمارے اخباروں کو دوسروں سے الجھنا نہیں چاہئے۔میں بعض دفعہ دیکھتا ہوں۔ابھی میں نے اخبار ڈان کے خلاف “المصلح“ کا مضمون پڑھا تو مجھے معلوم ہوا یو نہی چڑایا گیا ہے۔بھلا ہمیں ڈان کے جھگڑے میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے۔خواہ مخواہ اُس سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے۔اور اگر ہم نے کچھ کہا ہی ہو تو نصیحت کے رنگ میں کہنا کافی ہے۔دوسروں کے اوپر سختی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ہماری سختی سے تو اس پر اثر نہیں ہوتا۔وہ پچاس ہزار شائع ہونے والا اخبار اور ہر قسم کے فرقوں میں شائع ہونے والا اخبار۔ہمارا اخبار اردو میں چھپنے والا۔ایک محدود قوم کے پاس جانے والا۔بھلا اس جواب کو پڑھتا ہی کون ہے اور سنتا ہی کون ہے۔یہ چڑانے والی بات ہے اور کیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَعْرِضْ عَنِ الْجهلِينَ 3 کوئی ہم پر سختی بھی