انوارالعلوم (جلد 24) — Page 142
142 انوار العلوم جلد 24 لوگ اِس میں آباد ہو سکیں۔حالانکہ دوسروں نے اگر لینی تھی تو ہم سے پہلے کیوں نہ لے لی۔اب تو اگر کوئی آباد ہوتا ہے تو ہمارے سکول کی وجہ سے ہوتا ہے ، ہمارے کالج کی وجہ سے ہوتا ہے ، ہمارے ہسپتال کی وجہ سے ہوتا ہے۔لیکن بہر حال زبر دست کا ٹھینگا سر پر۔جو طاقت والے ہوتے ہیں اُن کی بات زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے اور ہمیشہ یہ مشکلات ہیں (خرید نے والی انجمن ہے صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید۔) اُن کے لئے پیش آتی رہتی ہیں اور حکام کی منتیں ترلے، اُن کی دھمکیاں سننی پڑتی ہیں۔اس کے لئے وہ بھی مجبور ہو کے آپ کو نوٹس دیتے ہیں کہ جلدی مکان بنائیے تاکہ ہماری جان چھوٹے۔جن دوستوں کو ان حالات کا علم نہیں وہ سمجھتے ہیں بیٹھے بیٹھے ربوہ میں ان کو جوش اٹھتا ہے ہماری حالت کو نہیں دیکھتے کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں۔ہم بنالیں گے ایک دو سال میں۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کا سلسلہ کو بھی نقصان ہوتا ہے اور ان لوگوں کو الگ پریشانی ہوتی ہے۔ہر افسر جو آتا ہے تو ان بیچاروں کو آگے پیچھے اُسکے دوڑنا پڑتا ہے کہ کسی طرح وہ رپورٹ خلاف نہ کر دے۔تو ان حالات سے مجبور ہو کر وہ آپ کو کہہ رہے ہیں کہ مکان جلدی بنوائیے تاکہ اس میں آبادی ہو جائے اور لوگ جو خواہ مخواہ دق کرنے کے لئے اعتراض کرتے ہیں اور پھر افسروں کو بھی ستاتے ہیں، ہمیں بھی ستاتے ہیں اُن کا منہ بند ہو جائے۔اور بھی کئی وجوہات ہیں مگر بڑی وجہ جو ہے وہ یہی ہے۔اور پھر اقتصادی طور پر اگر شہر آباد نہیں ہو گا تو یہاں کے دوکاندار بھی نہیں بس سکتے، یہاں کے سکول بھی نہیں آباد ہو سکتے، کالج بھی نہیں آباد ہو سکتے۔شہر کی آبادی کے ساتھ کالج اور سکول یہاں مضبوط ہو جائیں گے تو اداروں کی مضبوطی کے لئے بھی یہ ضروری ہے اور کالجوں کی مضبوطی کے لئے بھی ضروری ہے اور سلسلہ کے کام کے لئے بھی ضروری ہے اور پھر جس کام کے لئے میں نے زمین لی تھی اس شرط کے جلدی سے جلدی پورا کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔گو ہم گورنمنٹ کو تو یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ہم ربوہ میں اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں غریب آدمی، مہاجر۔تم ہم پر یہ اعتراض کر رہے ہو۔تو تم نے جو جو ہر آباد وغیرہ بنائے ہیں وہ تو اب تک اُجڑے پڑے ہیں کروڑ کر وڑ روپیہ سرکار نے اپنا خرچ کیا تو ان کو