انوارالعلوم (جلد 24) — Page 141
انوار العلوم جلد 24 141 پر زمین مل جاتی ہے۔پس یہ قیمتیں پیچھے بڑھیں گی اور کرائے تو اب بھی اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ مجھے تو ظلم ہی نظر آتا ہے۔تین چار کمرے کا مکان ہوتا ہے اور کہتے ہیں ساٹھ روپے، ستر روپے ، اسی روپے کرایہ ہے۔اور پھر اور زیادہ ظلم یہ ہے کہ میرے پاس بعض لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ ہم اپنے بچے یہاں رکھنا چاہتے ہیں۔تیں پنتھیں مکان خالی پڑے ہیں ہم گئے ہیں اُن کی منتیں کی ہیں کہ ہم کو کسی کرایہ پر دے دو مگر کہتے ہیں دینا نہیں۔اگر ہم کو کوئی مشکل پیش آئی اور ہمیں یہاں آنا پڑا تو کیا کریں گے مکان ہم نہیں دیتے۔تو کرایہ کے لحاظ سے بھی یہ بڑی آمد والی چیز ہے اور اگر آئندہ فروخت ہو تو اس میں بھی بڑی آمدن ہے۔کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مثلاً دوسو یا تین سو کو ٹکڑہ خرید ا تھا اور پھر اُن کے اوپر کچھ چندے بڑھ گئے یا یہ کہ وصیت کی تھی تو اب انہوں نے تین تین ہزار روپیہ میں انجمن کی معرفت بیچ کر اپنا ستائیس سو روپیہ کا قرضہ اتار دیا ہے حالانکہ انہوں نے دو سویا تین سو دے کر وہ ٹکڑہ خریدا تھا۔پس میرے نزدیک یہ بہترین سودا اور مفید سودا ہے۔مکان بنانے کے متعلق بھی ربوہ کمیٹی جو سختی کر رہی ہے اس کے متعلق میرے پاس شکائتیں آتی ہیں۔انفرادی طور پر تو میں جواب دیتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اجتماعی طور پر مجھے جماعت کو ہو شیار کر دینا چاہیے کہ اس میں میرے پاس لکھنا در حقیقت بیکار ہوتا ہے اصل بات یہ ہے کہ حکومت سے جب یہ زمین لی گئی ہے تو ان کو یہ کہا گیا تھا کہ مہاجرین بہت سارے ایسے ہیں کہ جن کے پاس جگہ نہیں اور وہ اپنا ٹھکانہ بنانے کے لئے یہاں مکان بنانا چاہتے ہیں۔یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ چونکہ ہماری جماعت کا مرکز ہو گا۔کالج ہونگے۔سکول ہونگے کچھ دوسرے بھی آجائیں گے لیکن زیادہ تر مہاجرین مد نظر ہیں اور اُن کے لئے فوراًٹھکانے کی ضرورت ہے تو یہ اعتراض لوگ حکومت کے او پر کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بولا تھا اگر فور اٹھکانے کی ضرورت تھی تو پھر یہ بناتے کیوں نہیں۔چنانچہ کئی آنے بہانے سے بعض افسر رپورٹیں کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے وعدہ نہیں پورا کیا، زمین آباد نہیں ہوئی ان سے لے لی جائے تاکہ دوسرے