انوارالعلوم (جلد 24) — Page xiv
www۔iv انوار العلوم جلد 24 ---------- ------------------------- --------- کاش ! وہ اسلام کی گزشتہ ہزار سال کی تاریخ دیکھتے اور انہیں یہ معلوم ہوتا کہ کس طرح مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر اسلام کو تباہ کیا گیا۔اور پھاڑنے کے یہ معنی نہیں تھے کہ ان میں اختلاف عقیدہ پیدا کیا گیا تھا۔کیونکہ اختلاف عقیدہ بھی بھی فتنہ پردازوں نے پیدا نہیں کیا بلکہ اختلاف عقیدہ علماء وفقہاء کی دیدہ ریزیوں کا نتیجہ تھا۔پھاڑنے کے معنے یہ تھے کہ اختلاف عقیدہ کی بناء پر بعض جماعتوں کو الگ کر کے اسلام کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔تاریخ موجود ہے ہر آدمی اس کی ورق گردانی کر کے اس نتیجہ کی صحت کو سمجھ سکتا ہے۔پس حقیقت یہ ہے که قادیانی مسئلہ کا حل اس طرح نہیں کیا جا سکتا جو مولانا مودودی صاحب نے تجویز کیا ہے۔یعنی پہلے تو احمدیوں کو اسلام سے خارج کر کے ایک علیحدہ اقلیت قرار دے دیا جائے اور پھر وہ سلسلہ شروع ہو جائے جو ایک ہزار سال سے اسلام میں چلا آیا ہے یعنی پھر آغا خانیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر بوہروں کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر شیعوں کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر اہلحدیث کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر بریلویوں کو اسلام سے خارج کیا جائے۔پھر دیوبندیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے اور پھر مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت قائم کی جائے۔مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقینا نہیں بنے گی۔لیکن پھر ایک دفعہ دنیا میں وہی تباہی کا دور شروع ہو جائے گا جو گزشتہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں میں جاری رہا اور وہ طاقت جو پچھلے پچیس سال میں مسلمانوں نے حاصل کی ہے بالکل جاتی رہے گی اور مسلمان پھر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگ جائیں گے۔اور جماعت اسلامی کے پیرو اپنے دل میں خوش ہوں گے کہ ہماری حکومت قائم ہو رہی ہے۔لیکن ایسا تو نہ ہو گا، ہاں اسلامی حکومتیں کمزور ہو کر پھر ایک تر لقمہ کی صورت میں یا تو روس کے حلق میں جا پڑیں گی یا مغربی حکومتوں کے گلے میں