انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xiii

انوار العلوم جلد 24 iii حاصل نہیں کی بلکہ وہ تیسرے درجے کی طاقتیں کہلا سکتے ہیں۔دنیا کی زبر دست طاقتوں کے مقابلہ میں ان کو کوئی حیثیت حاصل نہیں۔حالانکہ ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمان ساری دنیا پر حاکم تھا، جب مسلمان پر ظلم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔مسلمان پر پر ظلم کرنے کے نتیجہ میں ساری دنیا میں شور پڑ جاتا تھا۔لیکن آج عیسائی پر ظلم کرنے سے تو ساری دنیا میں شور پڑ سکتا ہے مسلمان پر ظلم کرنے سے ساری دنیا میں شور نہیں پڑ سکتا۔عیسائی کسی ملک میں بھی رہتا ہو اگر اُس پر ظلم کیا جائے تو عیسائی حکومتیں اس میں دخل دینا اپنا سیاسی حق قرار دیتی ہیں۔لیکن اگر کسی مسلمان پر غیر مسلم حکومت ظلم کرتی ہے اور مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ غیر ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیا جا سکتا۔گویا عیسائیت کی طاقت کی وجہ سے عیسائیوں کے لئے اور سیاسی اصول کار فرما ہیں لیکن مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے سیاسی دنیا ان کے لئے اور اصول تجویز کرتی ہے۔ایسے زمانہ میں مسلمانوں کا متفق اور متحد ہونا نہایت ضروری ہے اور چھوٹی اور بڑی جماعت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔الیکشن میں ممبر کو اپنے جیتنے کی سچی خواہش ہوتی ہے اور وہ ادنی سے ادنی انسان کے پاس بھی جاتا ہے اور اُس کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مسلمان حکومتوں کا معاملہ الیکشن جیتنے کی خواہش سے کم نہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم کو اس معاملہ میں چھوٹی جماعتوں کی ضرورت نہیں وہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو اسلامی حکومتوں کے طاقتور بنانے کی اتنی بھی خواہش نہیں جتنی ایک الیکشن لڑنے والے کو اپنے جیتنے کی خواہش ہوتی ہے۔پس وہ سچی خیر خواہی کا نہ مفہوم سمجھتا ہے اور نہ اس کو مسلمانوں سے سچی خیر خواہی ہے۔پس مودودی صاحب نے " قادیانی مسئلہ " لکھ کر قادیانی جماعت کا بھانڈا نہیں پھوڑا اپنی اسلامی محبت کا بھانڈا پھوڑا ہے اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا پردہ فاش کیا ہے۔