انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 54

انوار العلوم جلد 23 54 خدام الاحمدیہ کے بارہویں سالانہ اجتماع میں افتتاحی خطاب ایسے لوگوں کی تعداد بہت ظاہر کی ہے مگر میرے علم کے مطابق ان کی تعداد کسی صورت میں بھی پچاس ساٹھ سے زیادہ نہیں ہوئی اور ان میں سے بھی اکثر بعد میں جلد ہی سنبھل گئے اور شاید ہی کوئی ایسا رہا ہو گا جس نے ندامت کا اظہار نہ کیا ہو مگر بہر حال مومنوں کی جماعت کے لئے اتنی کمزوری بھی معمولی نہیں ہے۔ان کی جماعت تو اتنی مضبوط ہونی چاہئے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسی کمزوری نہ دکھلائے۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم کی غرض یہی تھی کہ اگر کسی موقع پر قربانی کا موقع آئے تو سو میں سے ننانوے نہیں بلکہ سو کے سو ہی اس قربانی پر پورے اتریں۔یہ روح اگر تم میں پیدا ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی قوم تم پر ظلم نہیں کر سکتی۔دنیا کی کوئی طاقت تمہاری راہ میں کھڑی نہیں ہو سکتی۔یہ تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تمہاری اکثریت ایسے ملک میں ہے جہاں کی حکومت جمہوریت کے اسلامی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے حتی الامکان ظلم و ستم ہونے نہیں دیتی لیکن تم نے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہنا تم نے ساری دُنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے اور دنیا میں آج بھی ایسے ملک موجود ہیں جہاں پر مذہب کے نام پر ظلم ہوتا ہے۔جہاں تلوار کے زور سے عقائد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پس تمہارا فرض ہے کہ تم ایسے ممالک کے حالات کے لئے بھی اپنے آپ کو تیار رکھو تا کہ وقت آنے پر تم کمزوری نہ دکھلا سکو۔گو پاکستان کے حکام کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق عدل و انصاف کو قائم رکھتے ہیں اور ظلم نہیں ہونے دیتے اور ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ملک کو اس روز بد سے ہمیشہ ہی محفوظ رکھے جبکہ یہاں بھی ظلم ہو لیکن ایک حد تک یہاں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور بعض دیگر ممالک میں تو یقیناً ہوں گی۔پس تم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھے جبکہ ایک طرف ایمان ہو اور دوسری طرف تلوار۔ویسے تو اس وقت تم میں سے ہر ایک جذباتی طور پر کہہ دے گا کہ ہم جانیں دے دیں گے مگر اپنے ایمان پر قائم رہیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز تیاری اور وقت چاہتی ہے۔اس سال جو حالات پیدا