انوارالعلوم (جلد 23) — Page 53
انوار العلوم جلد 23 53 خدام الاحمدیہ کے بارہویں سالانہ اجتماع میں افتتاحی خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدام الاحمدیہ کے بارہویں سالانہ اجتماع میں افتاحی خطاب (فرمودہ 30اکتوبر 1952ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ” مجھے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ خدام الاحمدیہ کا یہ بار ہواں سالانہ اجلاس ہو رہا ہے۔بارہواں سال ایک بلوغت کا سال سمجھا جاتا ہے۔بلوغت کے جو پانچ زمانے شمار کئے جاتے ہیں ان میں سے پہلا زمانہ بارہ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے اور دوسرا 15 سال کی عمر میں جبکہ جہاد میں شمولیت کی اجازت مل سکتی ہے۔تیسر ا 18 سال کی عمر میں جبکہ جہاد واجب ہو جاتا ہے۔چوتھا 21 برس کا ہونے پر جبکہ شریعت انسان کو پورے طور پر اپنے اموال کا مالک قرار دیتی ہے اور پانچواں دور بلوغت کا 40 برس کا ہونے پر شروع ہوتا ہے جو کہ عام مدت خدا تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت کے لئے مقرر فرمائی ہوئی ہے۔یہ سال جو تمہارے لئے بلوغت کا پہلا سال ہے جماعت کے لئے بہت سے فساد اور مشکلات لایا ہے۔سلسلے پر جو نازک ترین زمانے گزرے ہیں۔گیارہویں اور بارہویں سال کا یہ درمیانی عرصہ ان سے بھی زیادہ خطر ناک حالات تمہارے لئے لایا ہے۔اِس سے پہلے بھی جماعت پر ظلم و تعدی کے کئی دور آئے ہیں لیکن کبھی بھی ایسا زمانہ نہیں آیا تھا جبکہ بعض لوگوں نے ظلم اور جبر سے ڈر کر کچھ کمزوری دکھائی۔گو مخالفین نے تو