انوارالعلوم (جلد 23) — Page 570
انوار العلوم جلد 23 570 اپنی روایات زندور کھو اور مستقل مائو تجویز کرو بعض قبیلے بہادر ہوتے ہیں اور بعض بُزدل ہوتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کوئی بہادر اور کوئی بُزدل کیوں ہوتا ہے مثلاً قوموں میں سے بنگالیوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ لڑائی کے قابل نہیں، کشمیریوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ لڑائی کے قابل نہیں۔حالانکہ وہ بھی آدم کی نسل سے ہیں۔بنگالی اور کشمیری بھی اُسی آدم کی اولاد ہیں جس طرح دوسری قومیں پٹھان، راجپوت اور مغل وغیرہ۔کشمیری اور پٹھان تو ایک ہی نسل سے ہیں لیکن ایک نسل کی دو شاخوں میں سے ایک شاخ یعنی پٹھان بہادر ہوتے ہیں اور ایک شاخ یعنی کشمیری بُزدل ہوتے ہیں۔بنگال میں بھی بعض ایسے قبائل ہیں جو لڑائی کے لحاظ سے اچھے ہیں۔اب اگر ایک نسل کو بھی لیا جائے تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ بنگالیوں میں سے بعض لوگ بُزدل ہوتے ہیں اور بعض بہادر ہوتے ہیں۔پس تم ان چیزوں سے یہ نتیجہ نکال سکتی ہو کہ اخلاق قوموں میں بدلتے رہتے ہیں۔اخلاق صرف نسل کے ساتھ نہیں چلتے جاتے بلکہ بعض اور ذرائع بھی ہوتے ہیں جن سے اخلاق ترقی کرتے ہیں۔اگر اخلاق نسل سے چلتے تو اس نسل کے سارے حصوں میں ایک ہی خُلق ہو تا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک حصے میں کوئی خُلق ہوتا ہے اور دوسرے حصہ میں کوئی خُلق ہوتا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ نسل کے علاوہ اور بھی بعض فیکٹر ز، موجبات اور ذرائع ایسے ہیں جو اخلاق پیدا کرتے ہیں۔وہ فیکٹر ز ، موجبات اور ذرائع کیا ہیں؟ ان میں سے ایک موجب اور ایک فیکٹر صحبت ہے۔جس قسم کی صحبت میں انسان رہتا ہے اُسی قسم کے اخلاق کو وہ قبول کر لیتا ہے۔پھر ایک فیکٹر اور موجب تعلیم ہوتی ہے جیسی تعلیم کسی کو دی جاتی ہے اسی قسم کے اخلاق کو وہ قبول کر لیتا ہے۔پھر ایک بڑا فیکٹر اور موجب اخلاق کا روایت ہوتی ہے جسے انگریز ٹریڈیشنز (Traditions) کہتے ہیں یعنی ماضی کی روایات کہ فلاں کا باپ ایسا تھا، دادا ایسا تھا، پڑدادا ایسا تھا۔جب یہ باتیں کسی کے ذہن میں ڈالی جاتی ہیں تو انسان آہستہ آہستہ اُن کو اپنا لیتا ہے اور وہ اس کی طبیعت کا ایک مجزو بن جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مذہب کا کنٹرول اور قبضہ نسل کی نسبت لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نسل کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کسی بڑے آدمی