انوارالعلوم (جلد 23) — Page 548
انوار العلوم جلد 23 548 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر بر طرف کر دیا جائے کیونکہ وہ نااہل ثابت ہوا ہے لیکن حکومت نے بعض انصاف کے قواعد بھی بنائے ہوئے ہیں تاکہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں۔ان میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ جب کوئی افسر اپنے ماتحت کے متعلق اس قسم کے ریمارک کرے تو اس کارکن کو اس محکمہ سے تبدیل کر کے کسی دوسری جگہ مقرر کیا جائے اور اگر وہاں بھی اس کا افسر اسی قسم کے ریمارک کرے تو اسے نکال دیا جائے۔چنانچہ اس احمدی کے متعلق جب افسر نے یہ سفارش کی کہ اسے نکال دیا جائے یہ نااہل ہے تو حکومت نے اُسے ایک اور محکمہ میں بھیج دیا۔یہ ایک مرکزی ادارہ تھا۔6 ماہ یا سال کے بعد جب یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے متعلق کیا کیا جائے تو اتفاقی طور پر اس کی تبدیلی کے احکام بھی جاری ہو گئے اور اس پر ادارے نے لکھا کہ اس کے بغیر ہمارا کام نہیں چل سکتا اسے تبدیل نہ کیا جائے۔اعلیٰ افسروں نے لکھا کہ عجیب بات ہے کہ اس کا ایک افسر تو کہتا ہے کہ یہ نااہل ہے اسے ملازمت سے بر طرف کر دیا جائے اور دوسرا افسر کہہ رہا ہے کہ اسی نے آکر ہمارا کام سنبھالا ہے۔بہر حال چونکہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ شخص اہل ہے یا نا اہل اس لئے اس کی تبدیلی کے احکام رُک نہیں سکتے۔چنانچہ اسے وہاں سے تبدیل کر دیا گیا اور کچھ عرصہ کے بعد اس تیسرے افسر سے اس کے متعلق رپورٹ طلب کی گئی۔اس نے لکھا کہ میں نے اپنی پاکستان کی پانچ سالہ سروس میں اس قابلیت اور ذہانت کا آدمی نہیں دیکھا چنانچہ اعلیٰ افسروں نے پہلے افسر کے ریمارک بدلے اور کہا کہ یہ شخص ترقی دیئے جانے کے قابل ہے۔غرض یہ بالکل غلط ہے کہ احمدیوں کو رعایتی طور پر عہدے دیئے جاتے ہیں لیکن اگر تمہیں کسی نے اہل سمجھ کر بھرتی کر لیا ہے اور وہ بھرتی کرنے والا احمدی ہے یا غیر احمدی اور اس پر الزام لگ رہا ہو کہ اس نے تمہاری ناجائز حمایت کی ہے تو کیا تم میں اتنی غیرت بھی نہیں کہ اُس نے تم پر جو احسان کیا ہے تم اس کا بدلہ اُتار دو اور اس کی عزت کو بچاؤ۔اس کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ تم ملک اور قوم کی اتنی خدمت کرو، اتنی قربانی اور ایثار کرو کہ ہر ایک شخص یہی کہے کہ تم سے کوئی رعایت نہیں کی گئی بلکہ سفارش کرنے والے نے تمہاری سفارش کر کے اپنی دانائی کا ثبوت دیا ہے۔کیونکہ اُس