انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 547

انوار العلوم جلد 23 547 مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1953ء کے موقع پر۔۔۔عہدے رعایتاً دے دیئے جاتے ہیں غلط ہے۔ہم اس اعتراض کا یہی جواب دیتے ہیں کہ تم وہ آدمی لاؤ جس کو بطور رعایت کوئی عہدہ ملا ہو۔فرض کرو کوئی احمدی دیانت سے کام کر رہا ہے وہ ملک اور قوم کی خیر خواہی کر رہا ہے اور اس کا طریق عمل اور اس کی میسل اور اس کے کاغذات اس بات کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہم جلیسوں، ہم عمروں اور ہم عہدوں میں سب سے بہتر کام کرنے والا ہے اور مخالف اس کا نام لے کر کہے کہ فلاں کو عہدہ بطور رعایت ملا ہے تو اس کا ریکارڈ اس اعتراض کو دور کر دے گا لیکن اگر تمہارے کام کا ریکارڈ اچھا نہیں اور معترض تمہارا نام لے تو ہمارے لئے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔پس تم اپنے اندر محنت اور دیانتداری پیدا کرو تا کہ تم پر کوئی اعتراض ہی نہ کر سکے کہ تمہیں رعایتی ترقی دی گئی ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر تم میں سے کسی کو یہ نظر آتا ہو کہ اسے رعایت سے ترقی دی گئی ہے تو وہ اس عہدہ سے استعفیٰ دے دے کیونکہ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ انسان کسی اور شخص کی سفارش سے ترقی حاصل کرے۔شیخ سعدی نے کہا ہے۔حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپاۓ مر کی ہمسایہ در بہشت خدا کی قسم ایسی جنت دوزخ کے برابر ہے جس میں انسان کسی ہمسایہ کی سفارش سے داخل ہوا ہو۔اگر کسی شخص میں اس کام کی اہلیت نہیں پائی جاتی جو اس کے سپر د کیا گیا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس عہدہ کے لئے اس کی سفارش رعایتی طور پر کی گئی ہے اور اس کا فرض ہے کہ اگر اس کے اندر غیرت پائی جاتی ہو تو وہ استعفیٰ دے کر الگ ہو جائے۔پس تم اپنی عقل، محنت اور قربانی سے یہ بات ثابت کر دو کہ تم اپنے اقران، جلیسوں اور ہم عمروں سے بہتر ہو۔اگر تم اس مقام کو حاصل کر لو تو لازمی طور پر تم ہم اس الزام سے بچ جاؤ گے کہ تمہیں کسی رعایت کی وجہ سے ترقی دی گئی ہے۔میں کراچی گیا تو مجھے بتایا گیا کہ ایک احمدی کے متعلق لکھا گیا کہ اسے ملازمت سے