انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 515

انوار العلوم جلد 23 515 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات (ب) دوسری شق کا جواب یہ ہے کہ گو اس وقت تک جماعتی فیصلہ یہی رہا ہے غیر از جماعت لوگوں کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے لیکن اب اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر اپنے قلم سے لکھی ہوئی ملی ہے جس کا حوالہ ایک مرتبہ 1917ء میں دیا گیا تھا اور حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس کے متعلق اسی وقت اعلان فرما دیا تھا کہ اصل تحریر کے ملنے پر اس کے متعلق غور کیا جائے گا لیکن وہ اصل خط اس وقت نہ مل سکا۔اب ایک صاحب نے اطلاع دی ہے کہ ان کے والد مرحوم کے کاغذات میں سے اصل خط مل گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مکفر یا مکذب نہ ہو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں کیونکہ جنازہ صرف دُعا ہے۔لیکن باوجود جنازے کے بارے میں جماعت کے سابق طریقہ کے غیر احمدی مرحومین کے لئے دُعائیں کرنے میں جماعت نے کبھی اجتناب نہیں کیا۔چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ اور اکابرین جماعت احمدیہ نے بعض غیر احمدی وفات یافتہ اصحاب کے لئے دُعا کی ہے۔چنانچہ جی معین الدین سیکرٹری حکومت پاکستان کے والد صاحب (جو احمدی نہ تھے) کی وفات پر حضرت امام جماعت احمد یہ ان کے گھر تعزیت کے لئے تشریف لے گئے اور ان سے میاں معین الدین کے ماموں صاحب نے ”فاتحہ “ کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا کہ فاتحہ میں تو دعامانگنے والا اپنے لئے دُعا کرتا ہے۔یہ موقع تو وفات یافتہ کے لئے دُعا کرنے کا ہوتا ہے اس پر متوفی کے رشتہ داروں نے کہا کہ ہمارے یہی غرض ہے فاتحہ کا لفظ رسما بول دیا ہے تو آپ نے متوفی کے رشتہ داروں سے مل کر متوفی کے لئے دُعا فرمائی۔اسی طرح سر عبد القادر مرحوم کی وفات پر جب حضرت امام جماعت احمدیہ تعزیت کے واسطے ان کی کو ٹھی پر تشریف لے گئے تو ان کے حق میں بھی دُعا فرمائی۔اس جگہ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ممانعت جنازہ کے بارے میں بھی سبقت ہمارے مخالفین نے ہی کی چنانچہ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کا فتویٰ 1890ء میں بایں الفاظ اشاعۃ السنہ میں شائع ہو چکا ہے: ڈاکٹر میجر محمد شاہنواز خان صاحب