انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 441

انوار العلوم جلد 23 441 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت میرے دل میں سمائی بلکہ برابر سخت دل اور دشمن اسلام رہا اور مسیح کو برابر خدا ہی کہتا رہا۔پھر اگر ہم اسی وقت بلا توقف دو ہزار روپیہ نہ دیں تو ہم پر لعنت اور ہم جھوٹے اور ہمارا الہام جھوٹا اور اگر عبد اللہ آتھم قسم نہ کھائے یا قسم کی سزا میعاد کے اندر نہ دیکھ لے تو ہم بیچے اور ہمارا الہام سچا۔پھر بھی اگر کوئی حکم سے ہماری تکذیب کرے اور اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو اور ناحق سچائی پر پر وہ ڈالنا چاہے تو بیشک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہو گا کہ خواہ نخواہ حق سے رو گردان ہوتا ہے اور اپنی شیطنت سے کوشش کرتا ہے کہ بیچے جھوٹے ہو جائیں“۔409 اسی طرح صفحہ 27 پر یہ ذکر کر کے کہ آتھم کے قسم کی طرف رُخ نہ کرنے اور انعام نہ لینے سے صاف ثابت ہے کہ اُس نے خوف کے دنوں میں در پردہ اسلام کی طرف رجوع کیا تھا۔فرماتے ہیں:- اس سے بتمامتر صفائی ثابت ہے کہ ہماری فتح ہوئی اور دین اسلام غالب رہا۔پھر بھی اگر کوئی عیسائیوں کی فتح کا گیت گاتار ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ آتھم کو قسم کھانے پر مستعد کرے اور ہم سے تین ہزار روپیہ دلاوے اور میعاد گزرنے کے بعد ہم کو بیشک منہ کالا دجال کہے۔اگر ہم نے اس میں افتراء کیا ہے تو بیشک ہمارے آگے آجائے گا اور ہماری ذلّت ظاہر ہو گی لیکن اے میاں عبد الحق! اگر اس تقریر کو سُن کر چپ ہو جاؤ تو بتلا کہ سچی لعنت کس پر پڑی اور واقعی طور پر منہ کیس کا کالا ہوا؟“ 410 اس عبارت سے ظاہر ہے کہ اس تحریر کے مخاطب عام مسلمان نہیں ہیں بلکہ خاص طور پر میاں عبد الحق ہیں جنہوں نے اسلام کے بالمقابل عیسائیوں کی حمایت کی تھی۔(ب) ہم قبل ازیں ذریۃ البغایا کی تشریح کے ضمن میں زیر عنوان ”آئینہ کمالات اسلام