انوارالعلوم (جلد 23) — Page 440
انوار العلوم جلد 23 440 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اوّل اُن بد زبان عیسائیوں کے متعلق ہے۔مسلمانوں کے متعلق نہیں۔دوم وہ گالی نہیں قرآنِ کریم کی اتباع میں عیسائیوں کے ناواجب حملوں کی تشریح کی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جو الفاظ بھی استعمال کئے ہیں اُن سے بہت زیادہ سخت الفاظ ہزاروں نہیں لاکھوں دفعہ یہ لوگ استعمال کر چکے ہیں۔گزشتہ فسادات کے موقع پر بھی جو الفاظ انہوں نے استعمال کئے ہیں اور جو عدالتِ عالیہ کے سامنے پیش ہوئے ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی اندرونی کیفیت کیا ہے۔انوار الاسلام کا حوالہ انوار الاسلام صفحہ 20 کے حوالہ سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اس میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے عام مسلمانوں کو (نعوذ الله ولد الحرام قرار دیا ہے کہ ”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا، سمجھا جائے گا کہ اُسے ولد الحرام بننے کا شوق ہے“۔ہمیں افسوس ہے کہ اصل عبارت میں قطع و برید کی گئی ہے جس سے یہ ظاہر نہیں ہو تا کہ اس جگہ ”فتح“ سے کیا مراد ہے؟ اصل واقعہ یہ ہے کہ اِس عبارت میں رُوئے سخن مولوی عبدالحق غزنوی کی طرف ہے۔اس جگہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے پادری عبد اللہ آتھم کے متعلق اپنی پیشگوئی پر مولوی عبدالحق غزنوی کی نکتہ چینی کا جواب دیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ آتھم مدت معینہ کے اندر اس لئے نہیں مرا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے الہاما بتایا تھا کہ اُس نے پیشگوئی کی شرط ” بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے“ سے فائدہ اُٹھایا ہے لیکن مولوی عبد الحق مذکور نے اس کی تکذیب کی اور آپ کو گالیاں دیں اور عیسائیوں کو غالب اور فاتح قرار دیا تو آپ نے انوار الاسلام میں لکھا: - ”ہاں اگر یہ دعویٰ کرو کہ عبد اللہ آتھم نے ایک ذرہ حق کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ ڈرا تو اس وہم کی بیخ کنی کے لئے یہ سیدھا اور صاف معیار ہے کہ ہم عبد اللہ آتھم کو دو ہزار روپیہ نقد دیتے ہیں۔وہ تین مرتبہ قسم کھا کر یہ اقرار کر دے کہ میں نے ایک ذرہ بھی