انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 424

انوار العلوم جلد 23 424 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ بعض الفاظ جو زیادہ سخت نظر آتے ہیں اصل میں عربی زبان میں ہیں اور ان کا غلط ترجمہ کر کے لوگوں کو اشتعال دلایا جاتا ہے۔اس کی ایک واضح مثال آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547 کا حوالہ ہے۔آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 457 کا حوالہ 1- کہا گیا ہے کہ حضرت۔بانی سلسلہ احمدیہ نے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 457 پر تمام غیر احمدی مسلمانوں کو ”کنجریوں کی اولاد“ قرار دیا ہے۔اس کے جواب میں عرض ہے کہ آئینہ کمالات اسلام پہلی مرتبہ 1893ء میں شائع ہوئی اور اس کا دوسرا ایڈیشن 1924ء میں (یعنی آج سے تیس سال قبل) شائع ہوا۔جو عبارت مجلس عمل نے پیش کی ہے وہ عربی زبان میں ہے اور اس کے نیچے عربی عبارت کا کوئی ترجمہ اصل کتاب میں نہیں ہے جو ترجمہ مجلس عمل نے کیا ہے جماعت احمدیہ نے کبھی بھی درست تسلیم نہیں کیا بلکہ 1933ء و1934 ء سے لے کر آج تک متواتر ہیں سال سے ہماری طرف سے یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ یہ ترجمہ غلط ہے بلکہ ذرية البغایا کے معنے ہدایت سے دُور “ اور ”حد سے بڑھ جانے “ کے ہیں۔نیز یہ کہ یہ عبارت غیر احمدی مسلمانوں کی نسبت نہیں ہے بلکہ متعصب اور بد زبان پادریوں اور پنڈتوں کی نسبت ہے۔اندریں حالات اگر اس تحریر یا اس کے اس ترجمہ کی اشاعت سے اشتعال پیدا ہوا تو اس کی ذمہ داری ان علماء پر ہے جنہوں نے بار بار عوام میں اس عبارت کا خود ساختہ ترجمہ شائع کر کے ان کو اشتعال دلایا۔2- ذرية البغایا جس کا ترجمہ کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد کیا گیا ہے اس کی تفسیر حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اس عبارت میں خود ہی فرما دی ہے۔”الَّذِينَ خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ۔یعنی ذریۃ البغایا وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے۔وہ قبول نہیں کریں گے یعنی رُشد و ہدایت سے محروم لوگ۔ناب آئینہ کمالات اسلام کی اشاعت 1893ء کے وقت آپ کے ماننے والوں کی نہایت قلیل تھی۔ابھی تک جماعت احمدیہ کا نام ”مسلمان فرقہ احمدیہ “ جو