انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 381

انوار العلوم جلد 23 381 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مدح اور ذب میں فرق او پر عرض کیا گیا ہے کہ تعریفی الفاظ بطور مدح نہ تھے بلکہ بطور ”ذب “ یعنی بغرض رفع الزام تھے۔اِس کی مثال قرآن مجید میں موجود ہے قرآن مجید میں حضرت مریم کی عفت اور عصمت بار بار اور زور دار الفاظ میں بیان کی گئی ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی عفت اور عصمت کا قرآن مجید میں کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔حالانکہ وہ اپنی عفت اور عصمت کے لحاظ سے کسی رنگ میں بھی کم نہیں ہیں بلکہ حضرت فاطمتہ الزہراء تو اپنے مدارج عظمت کے لحاظ سے حضرت مریم سے افضل ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سَيَدَةُ نِسَاءِ اَهْلِ الْجَنَّةِ 327 سے ظاہر ہے۔قرآن مجید میں حضرت مریم کی پاکیزگی اور عفت و عصمت کا بار بار زور دار الفاظ میں ذکر ہونا اور اُن کے مقابل پر حضرت فاطمتہ الزہراء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا قرآن مجید میں ذکر نہ ہونا ہر گز ہر گز اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ حضرت مریم کو اُن پر کوئی فضیلت حاصل تھی کیونکہ حقیقت حال یہ ہے کہ حضرت مریم پر زنا اور بدکاری کی تہمت لگائی گئی تھی۔اس لئے اُن کی بریت اور رفع الزام کے لئے بطور ”ذب“ اُن کی تعریف ضرورت تھی مگر چونکہ حضرت فاطمۃ الزہراء اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و کی والدہ ماجدہ پر ایسا کوئی الزام نہ تھا اس لئے باوجود اُن کی عظمت و شان کے اُن کی تعریف و توصیف کی ضرورت نہ تھی۔بعینہ اسی طرح چونکہ حضرت مرزا صاحب پر آپ کے مخالفین کی طرف سے حکومت کا باغی ہونے اور اس کے خلاف تلوار کی لڑائی کی خفیہ تیاریوں میں مصروف ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ اظہارِ حقیقت کے لئے زور دار الفاظ میں الزامات کی تردید کی جاتی۔پس منظر پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ان تحریرات پر غور کرنے کے لئے اس پس منظر کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے جس میں یہ عبارتیں لکھی گئیں۔حضرت مرزا صاحب کی پیدائش کے قریب زمانہ میں اور آپ کے دعویٰ سے قریباً