انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 368

انوار العلوم جلد 23 368 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کے علاوہ پالم پور میں اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں مگر یہی مولانا مودودی جو حیدر آباد میں ملازم رہے ہیں اُنہوں نے کبھی ان کے خلاف آواز نہیں اُٹھائی۔حالانکہ وہ جو الزام ہم پر لگاتے ہیں، ان سے زیادہ سخت الزام ان پر لگتے ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ان باتوں کو جائز سمجھتے ہیں ہم صرف یہ بتاتے ہیں جب یہ مولوی ہم پر الزام لگاتے ہیں تو ان کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔جو لوگ ان کا سر پھوڑنے کی طاقت رکھتے ہیں اور اس کو جائز سمجھتے ہیں اُن کے سامنے تو یہ نظریں نیچی کر لیتے ہیں اور جو لوگ امن پسند شہری ہیں اُن پر ان کا سارا غصہ نکلتا ہے۔یہ جانتے ہیں کہ اگر آغا خان کے خلاف کچھ کہا تو گورنمنٹ بھی گردن مروڑے گی اور بہت سارے چندوں اور امد ادوں سے بھی محروم ہو جانا پڑے گا۔احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ جن میں پہلے غیر احمدی مولویوں نے ہی دیا ہے نہیں انہیں لوگوں نے کی ہے۔مثلاً احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے پہلے انہیں نے روکا ہے۔چنانچہ 1892 میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق فتوی دیا کہ :- نہ اس کو ابتداء سلام کریں۔۔۔۔۔اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں“۔294 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتویٰ دیا کہ :- ”قادیانی کے مرید رہنا اور مسلمانوں کا امام بننا دونوں باہم ضدین ہیں۔یہ جمع نہیں ہو سکتیں“۔295 مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ :- 296 " اس کو اور اس کے اتباع کو امام بنانا حرام ہے“۔مولوی ثناء اللہ صاحب امر تسری نے فتویٰ دیا کہ :- ”اس کے خلف نماز جائز نہیں“۔297