انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 356

انوار العلوم جلد 23 356 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ میں کہا ہے۔اصل ذمہ دار علماء ہیں جنہوں نے ہم کو پہلے کافر کہا۔لفظ کفر کی حقیقت احمد یہ جماعت کے نزدیک محض حجت اور عدم حجت کے متعلق ہے۔گفر کے عواقب خدا تعالیٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے جو غیر احمدی علماء بتاتے ہیں اُن سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ خدا دو ہیں۔ایک مؤمنوں کا خدا اور ایک کافروں کا خدا۔حالانکہ خدا تو ایک ہی ہے۔ایک باپ کے دو بیٹوں میں سے ایک فرمانبردار ہوتا ہے اور ایک نافرمان لیکن ہو تا بیٹا ہی ہے۔نافرمان ہو جانے سے باپ کے دل سے اُس کی محبت نہیں جاسکتی اور وہ اُس کی بہتری کے لئے کوشش کرنے سے باز نہیں رہتا۔اگر خدا مسلمانوں اور کافروں کا ایک ہی ہے تو یہی کیفیت اُس کی بھی ہونی چاہئے۔کافر کے معنے محض اتنے ہیں کہ وہ اُس کا بیمار بندہ ہے جس کے دل میں کچھ خرابی پیدا ہو گئی ہے۔مگر اس کا ہونے اور اُس کا ”بندہ “ ہونے میں تو کوئی فرق نہیں آتا۔نپس کسی مذہب میں کسی شخص کو کافر کہنے کے بعد جو اُس کے لئے سزا اور جزا تجویز کی گئی ہے اُس کو مد نظر رکھے بغیر ہم اُس قوم کے کفر کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے اور اس بات کا پتہ کہ اسلام کے کون سے فرقے پیدائش عالم کی غرض کو مد نظر رکھتے ہیں اسی سے مل سکتا ہے کہ کُفر کی جو تشریح وہ کرتے ہیں آیا وہ اسلامک آئیڈیالوجی کے مطابق ہے یا اُس کے مخالف ہے۔پس اس بات کو واضح کرنے کے لئے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے گفر کی سزا کے متعلق یوں لکھا ہے :- اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر انسان نجات ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خواہ کوئی کیسا ہی کا فر ہو مختلف قسم کے علاجوں کے بعد جن میں سے ایک علاج جہنم بھی ہے آخر جنت کو پالے گا۔قرآن نجات کے بارہ میں وزنِ اعمال پر زور دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ نیک اعمال کا بڑھ جانا انسان کی نجات کے لئے اُس کی سچی کوشش پر دلالت کرتا ہے اور جو شخص سچی کوشش کرتا ہوا مر جاتا ہے وہ اس سپاہی کی طرح ہے جو فتح سے پہلے مارا جاتا ہے۔۔۔۔۔اگر ایک شخص نیکی کے لئے جد و جہد کرتے ہوئے مر جاتا ہے تو یقیناً وہ خدا تعالیٰ کے فضل کا