انوارالعلوم (جلد 23) — Page 337
انوار العلوم جلد 23 اصلاح کر “۔337 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ پھر آپ اپنی کتاب ” نزول المسیح میں لکھتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے سب انبیاء کے نام دیئے ہیں اور الفاظ یہ ہیں: اس صورت میں گویا تمام انبیاء گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے ، 221 اگر آپ اپنی کوئی الگ اُمّت مانتے تو اس فقرہ کے معنی کیا بن سکتے ہیں ؟ پھر اسی کتاب کے صفحہ 34 پر آپ فرماتے ہیں کہ سورۃ نور اور سورۃ فاتحہ پر نظر غائز کر کے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کے گل خلفاء اسی اُمت میں سے ہوں گے اور یہ بات اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو اس اُمت میں شامل کرتے ہیں۔پھر اپنے ملہم میں اللہ ہونے کے ثبوت میں آپ فرماتے ہیں کہ اگر خدا کو یہ منظور ہی نہیں کہ بموجب دُعا اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔انبیاء علیہم السلام کے انعامات میں اِس اُمت کو بھی شریک کرے۔تو اُس نے کیوں یہ دعا سکھلائی“۔222 اسی طرح فرماتے ہیں:۔223" گا آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی اُمت میں سے آئے اسی طرح فرماتے ہیں:۔”خدا نے اِس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح 224 " سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے“۔اسی طرح فرماتے ہیں:۔اسلامی تعلیم کا ان دو فقروں میں خلاصہ تمام اُمت کو سکھلایا گیا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ “ 225