انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 310

انوار العلوم جلد 23 310 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور نہ ہم نے ایسا کوئی خیال مولانا موصوف کی طرف منسوب کیا ہے۔اس جگہ تو ہماری بحث صرف لفظ ” خاتم کی تشریح و تأویل کے بارہ میں ہے نہ کہ اجرائے نبوت کے متعلق عقیدہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے بارہ میں۔اور مقصود صرف یہ دکھانا ہے کہ لفظ ”خاتم“ کے جو معنی جماعت احمد یہ بیان کرتی ہے وہ نئے نہیں پہلے بزرگوں نے بھی کئے ہیں۔پھر حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ اپنے ایک نامور اور شہرہ آفاق معاصر حضرت مولانا عبد الحئی لکھنوی فرنگی محلی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہ قول نقل کرتے ہیں کہ :۔آنحضرت کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہو سکتا اور نبوت آپ کی عام ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہو گا وہ متبع شریعت محمدیہ کا ہو گا “174 اسی طرح حضرت مولانا عبد الحی فرنگی محلی "لکھنوی اپنے رسالہ دافع الوسواس میں لکھتے ہیں کہ :۔ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آنحضرت کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہو نا البتہ ممتنع ہے 66 حضرت مولانا رومی جو ساتویں صدی ہجری کے قریباً آخر میں گزرے ہیں لکھتے مکر گن در راه نیکو خدمتے تا نبوت یابی اندر اُتے 176 یعنی تو بنی نوع انسان کی خدمت اور بہتری کے لئے کوشش کرتا کہ امت میں رہتے ہوئے نبوت پا جائے۔اسی طرح فرماتے ہیں: چون بدادی دست خود در دست پیر پیر حکمت کو علیمست و خبیر