انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 309

انوار العلوم جلد 23 309 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 173" بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النبیین شاہد ہے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بہت بڑے فاضل اور جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے مدرسۃ العلوم دیوبند کے بانی تھے اور تمام دیوبندی علماء ان کو اپنا واجب الاحترام بزرگ اور مقتداء تسلیم کرتے ہیں۔(ملاحظہ ہو بیان مولوی محمد علی صاحب کاندھلوی) مولانا موصوف کی عبارت جو نمبر (ب) پر تحذیر الناس صفحہ 28 کے حوالہ سے درج کی گئی ہے وہ نہایت واضح اور صاف ہے اور اس میں الفاظ پید اہو ، خاص طور پر اس معز ز عدالت کی توجہ کے قابل ہیں۔ان الفاظ نے اس احتمال کی گنجائش بالکل باقی نہیں رکھی کہ نزولِ مسیح کے عقیدہ کے پیش نظر ایسا لکھا گیا ہے کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا پیدا ہو نانہ تو خاتمیت کے منافی ہے اور نہ ہی عقیدہ ختم نبوت کے لئے باعث خطر۔بشر طیکہ اس پیدا ہونے والے نبی کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے مستفاض ہو یعنی بالعرض ہو، بالذات نہ ہو۔ہم حضرت مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا موجودہ دیوبندی علماء کے سامنے پیش کر کے اُن سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا آپ بھی یہی الفاظ کہنے کے لئے تیار ہیں اور کیا آپ کا بھی وہی خیال ہے جو مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ؟ ہمیں یقین ہے کہ اُن کا جواب یقیناً نفی میں ہو گا کیونکہ موجودہ غیر احمدی علماء کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہو (خواہ وہ آپ کا غلام اور امتی اور آپ کی پیروی کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔) تو اس کی آمد سے عقیدہ ختم نبوت کو سخت خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔مولانا محمد قاسم نانوتوی کے مندرجہ بالا حوالہ جات دکھانے کے لئے پیش کئے گئے ہیں کہ لفظ خاتم النتین میں میں ”ختمیت “ بمعنی تاخیر زمانی مراد نہیں لی گئی۔باقی رہا یہ سوال کہ آیا مولانا محمد قاسم کے اپنے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فی الواقع کوئی نبی آسکتا تھا یا نہیں ؟ تو اس کی نہ یہاں کوئی بحث ہے