انوارالعلوم (جلد 23) — Page 300
انوار العلوم جلد 23 300 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ لَمُنْجَدِّلٌ فِي طِيْنَتِهِ 132 یعنی میں خاتم النبیین تھا جب کہ آدم ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔اسی طرح حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ " قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ قَالَ وَ أَدَهُ بَيْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ۔153 یعنی لوگوں نے پوچھا یار سُول اللہ ! آپ کی نبوت کب سے قائم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ آدم ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس مقام پر فائز کیا تھا۔یہ وہ احادیث ہیں جن کو جماعت اسلامی، مجلس عمل اور مجلس احرار سب صحیح مانتے ہیں۔ان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم نبوت کا عہدہ ملنے کے بعد تشریعی نبی بھی آتے رہے۔یعنی نوح علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام وغیرہ۔پھر اگر جماعت احمد یہ یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ خاتم النبیین کے بعد غیر تشریعی امتی نبی آسکتا ہے تو اس پر کیا اعتراض۔اس سلسلہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت ہے جو ابن ابی شیبہ نے بیان کی ہے۔اس نے کہا کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعض لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم خاتم النبیین تو بے شک کہا کرو مگر لَا نَبِيَّ بَعْدَہ نہ کہا کرو۔154 اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک خاتم النبیین اور لا نَبِيَّ بَعْدَہ میں فرق تھا۔یعنی خاتم النبیین کے پورے معنی لَا نَبِیَ بَعْدَہ سے ادا نہیں ہوتے تھے بلکہ اس سے کچھ غلط فہمی پیدا ہو جاتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لَا نَبِيَّ بَعْدِی فرمانا تو خود احادیث سے ثابت ہے۔پس یہ تو کہا نہیں جاسکتا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی منکر تھیں اور اس کو رڈ فرماتی تھیں بلکہ ان کے اس قول سے یہی ماننا پڑے گا کہ لَا نَبِيَّ بَعْدَہ کے الفاظ سے کوئی دھوکا لگ سکتا تھا لیکن خاتم ا النبیین کے لفظ سے وہ دھوکا نہیں لگ سکتا۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ خاتم اسبتین کا لفظ جو قرآنِ کریم میں آیا ہے وہ استعمال کیا کرو کیونکہ اِس سے کوئی دھوکا نہیں لگتا۔لیکن لا نَبِيَّ بَعْدَہ کے الفاظ جو حدیثوں میں آئے ہیں وہ استعمال نہ کیا کرو کیونکہ ان سے دھوکا لگتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ دھو کا وہی ہے جس کا ازالہ احمدی جماعت کرتی ہے۔