انوارالعلوم (جلد 23) — Page 18
انوار العلوم جلد 23 18 سب کا فرض ہے کہ وہ درس القرآن میں شامل ہوا کریں عنا کسی نے لیکن آج جب قرآن کریم ختم کرنے کا وقت آیا تو تم بھی آگئے کہ ہماری دُعا قبول ہو جائے۔آج ہر دس آدمیوں میں سے نو آدمی ایسے ہیں جو دوسرے کا مال کھانے کے لئے آگئے ہیں اُنہوں نے سارا ماہ دُعا نہیں کی لیکن آج یہاں آگئے ہیں تا دُعا میں شریک ہو جائیں لیکن ہمارا خدا دھوکا میں نہیں آتا ممکن ہے کوئی دل آج اپنے فعل پر افسردہ ہو، شر مندہ ہو اور پھر یہاں آگیا ہو تو خدا تعالیٰ اس کی دُعائن لے کیونکہ ہمارا خُدار حیم وکریم ہے لیکن جو لوگ آج رسا یہاں آگئے ہیں خدا تعالیٰ ان کی دُعائیں نہیں سُنے گا کیونکہ یہ دُعا نہیں بلکہ محض ایک تمسخر ہے۔باقی وہ جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف تھا اور اُنہوں نے سارا ماہ قرآن کریم شنا، قرآن پڑھا اور روزے رکھے ان کے لئے بے شک یہ دُعا کا موقع ہے۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا! رمضان جارہا ہے، برکت کی گھڑیاں جو تو نے ہمیں دی تھیں وہ اب جارہی ہیں۔لگے ہاتھوں اب میری دُعا بھی سن لے۔صرف ایسے ہی لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ ہمارا خدانہ تو ہمارے آنسوؤں کا محتاج ہے نہ وہ ہمارے گڑ گڑانے کا محتاج ہے اور نہ وہ ہماری کسی اور حرکت کا محتاج ہے۔وہ صرف ایک گداز دل کی آہ سننے کے لئے تیار ہوتا ہے۔وہ مومن کا دل دیکھتا ہے اور اس کے دل کے درد کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔بچہ جب سوتے سوتے رات کو درد کے ساتھ کراہتا ہے تو ماں اس کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔وہ یہ نہیں دیکھتی کہ بچہ چلاتا ہے یا نہیں وہ اس کے رونے کا انتظار نہیں کرتی۔سو دُکھ کی نکلی ہوئی آواز خدا تعالیٰ سُنتا ہے۔اگر ہمیں دُکھ ہے تو تمہاری دُعائیں اسی طرح سُنی جائیں گی جس طرح تم سے پہلی جماعتوں کی دُعائیں سنی گئیں اور خدا تعالیٰ تمہاری طرف اسی طرح دوڑے گا جس طرح وہ پہلے انبیاء کی جماعتوں کی طرف دوڑا۔پس میں ایسے دلوں سے کہتا ہوں کہ تم دُعائیں کرو۔کسی لمبی دُعا کی ضرورت نہیں۔درد سے نکلا ہوا ایک فقرہ بھی خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیتا ہے۔تم دُعائیں کرو اُن مبلغوں کے لئے جو دُنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور دین کا کام کر رہے ہیں۔وہ صرف اپنا فرض ہی ادا نہیں کر رہے بلکہ تمہاری نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔دُعائیں کروان جماعتوں کے لئے جنہوں نے نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام