انوارالعلوم (جلد 23) — Page 202
انوار العلوم جلد 23 202 تعلق باللہ انسانی شکل میں نمودار ہوا۔قرآن کریم اس تھیوری کو غلط قرار دیتا ہے لیکن بہر حال اگر ڈارون کی تھیوری لوتب بھی پہلا وجود جو محسوس محبت کرنے والا تھا وہ ماں باپ کا ماننا پڑے گا بچے کا نہیں اور اگر قرآن کریم کی تھیوری لوتب بھی ماں باپ کی محبت کو پہلی محبت ماننا پڑے گا بچے کی محبت کو پہلی محبت نہیں ماننا پڑے گا۔دینی لحاظ سے بھی یہی اصل ہے کیونکہ خالق و مخلوق کے تعلق میں خالقیت کا تعلق مقدم ہے اور مخلوقیت کا تعلق مابعد۔پس ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب اپنی محبت کے لئے پیدا کیا تو پہلے محبت اللہ تعالیٰ کے دل میں آئی اور اس کے بعد مخلوق میں۔جس طرح پہلے محبت ماں باپ کے دل میں آتی ہے اور بعد میں بچہ میں جب وہ محسوس کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔چنانچہ ماں جنتے ہی بچہ سے محبت کرتی ہے بلکہ جننے سے بھی پہلے۔لیکن بچہ کی ماں ولادت کے وقت فوت ہو جائے تو وہ پالنے والی عورت ہی کو ماں سمجھنے لگتا ہے اور اصل ماں باپ کو بھول جاتا ہے۔اِس سوال کا جواب دینے کے بعد اب میں اُن موجبات کو لیتا ہوں جو ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کرنے والے ہیں لیکن جن کو وہ خود نہیں جانتے صرف ان کے نتیجہ کو جانتے ہیں اور اُن کو انسان اور خدا تعالیٰ کے رشتہ پر چسپاں کرتے ہیں۔(الف) پہلا موجب میں نے خالقیت کا بتایا ہے یہ ہمیں فطرتِ انسانی سے معلوم ہوتا ہے۔بچے گڑیاں بنانے کے شوقین ہوتے ہیں، مکان بنانے کے شوقین ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالقیت کا ایک زبر دست تقاضا انسان و حیوان میں ہے اور پھر وہ اپنی مخلوق سے طبعاً محبت کرتا ہے۔پس یہ جذبہ سب سے پہلے ماں باپ کے دل میں بچہ کی محبت پیدا کرتا ہے اور اس سے ہم یہ نتیجہ بھی نکال سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو اصل خالق ہے اُس کی محبت اپنی مخلوق سے بہت زیادہ شدید ہونی چاہیے اور سچ پوچھو تو اس کی موٹی مثال موجود ہے۔ماں باپ کے جتنے قصور بچے کرتے ہیں وہ کب تک اُن کو معاف کرتے ہیں۔بعض دفعہ تو ایک بات نہ ماننے پر ہی اُنہیں عاق کر دیتے ہیں۔بیسیوں واقعات سننے میں آتے ہیں کہ ماں باپ نے اپنے بچوں کو عاق کر دیا اور جب پوچھا گیا کہ آپ نے عاق کیوں کیا ہے تو انہوں نے جواب یہ دیا کہ ہم نے کہا تھا فلاں جگہ شادی کر لو مگر