انوارالعلوم (جلد 23) — Page 201
تعلق باللہ انوار العلوم جلد 23 201 کرتا چلا جاتا ہے اب جہاں طبعی طور پر اُس کے اندر یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ میں ہمیشہ زندہ رہوں وہاں اس کے اندر یہ خواہش بھی پائی جاتی ہے کہ میں ہمیشہ جوان رہوں۔یہ نہیں چاہتا کہ میں بڑھا ہو جاؤں اور لوگ میرے منہ میں لقمے ڈالا کریں۔گویا اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ میری مظہریت دنیا میں قائم رہے اور چونکہ انسان کی مظہریت اُس کی اولاد کے ذریعہ ہی قائم رہ سکتی ہے اس لئے فطرتی طور پر ہر شخص اپنے بچوں سے محبت رکھتا ہے۔یہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی دلیل کے ماں باپ اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں اور یہ ایسے گہرے موجبات ہیں کہ انسان کی فطرت میں مرکوز ہیں حتی کہ اُسے اِن کے بارہ میں سوچنے کی بھی ضرورت نہیں جس طرح انسان کا اپنا جسم دماغ پر خود بخود اثر کرتا ہے یہ موجبات بھی اُس کے دماغ پر تصرف کرتے ہیں حتی کہ وہ بغیر موجبات کو سوچنے کے مُوجَب کو محسوس کرتے لگتا ہے۔شاید کوئی کہے کہ پہلی محبت تو بچہ کو ماں باپ کی ہوتی ہے آپ نے یہ کیوں کہا کہ پہلی محبت ماں باپ کو بچہ کی ہوتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی نسل کو اگر اس اصول پر مانا جائے کہ آدم و حوا سے نسل انسانی چلنی شروع ہوئی تو اننا پڑے گا کہ پہلی محسوس محبت آدم و حوا کو ہوئی کیونکہ آدم اول خواہ یکدم پیدا ہوا خواہ غیر محسوس دور سے گزر کر محسوس دور میں داخل ہوا۔اُس نے ماں باپ کی محبت کو نہیں دیکھایا نہیں سمجھا لیکن اُس نے اپنی اولاد کی محبت کو پہلی دفعہ دیکھا اور سمجھا اور یہی حق ہے۔پس آدم و حوا کی پیدائش تھیوری کو دیکھا جائے تو ماننا پڑے گا کہ پہلی محبت ماں باپ کی بچہ سے تھی پہلی محبت بچہ کی ماں باپ سے نہیں تھی۔یا یوں کہو کہ پہلے اس محبت کو محسوس کرنے والے ماں باپ تھے بچے نہیں تھے۔یوں تو لوگ ہمیشہ بحث کیا کرتے ہیں کہ پہلے انڈا تھا یا مرغی ؟ اور یہ بحث ہمیشہ جاری رہے گی کہ پہلے آدم ہوا یا بچہ۔لیکن بہر حال کوئی نہ کوئی تھیوری ماننی پڑے گی۔ڈارون کہتا ہے کہ نسل انسانی نے آہستہ آہستہ ارتقائی صورت اختیار کی ہے پہلے وہ بعض جانوروں کی شکل میں تھا لیکن ارتقائی دور میں سے گزرتے گزرتے آخر وہ