انوارالعلوم (جلد 23) — Page 173
انوار العلوم جلد 23 173 تعلق باللہ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور پھر وہ کریں گے گویا اُن کی محبت موہبت والی محبت ہو گی۔یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ جو مومن تھے اُن کی نسبت تو اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ پہلے تم اتباع رسول کرو پھر تم خدا تعالیٰ کے محبوب ہوگے اور مرتدوں کے بدلہ میں جو کفار سے آنے والے تھے اُن کے متعلق یہ کہا کہ خدا ان سے پہلے محبت کرے گا اور پھر وہ اس سے محبت کریں گے۔اِس فرق کی وجہ کیا ہے اور کیوں مومنوں کی محبت کو کسی اور مرتدوں کے بدلہ میں کفار میں سے آنے والوں کی محبت کو وہی قرار دیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ کسی کو شر مندہ کرنے کے لئے دوسرے کو حق سے زیادہ انعام دیا جاتا ہے یا بعض دفعہ دوست کی ناشکری پر غیر پر زیادہ احسان کر دیا جاتا ہے تا کہ روٹھنے والے کو شر مندہ کیا جائے اور اپنا استغناء ظاہر کیا جائے۔بعض دفعہ ہم اپنے کسی بچے کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں آؤ ہم تمہیں مٹھائی دیں اگر وہ نہیں آتا تو پاس اگر غیر کا بچہ کھڑا ہو تو اُسے دو گنی مٹھائی دے دیتے ہیں تا کہ اپنا بچہ جو نہیں آیا وہ شرمندہ ہو۔اسی طرح بعض دفعہ مومن مرتد ہوتا ہے اور چلا جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی حالت میں ہم خود کافروں میں سے چن چن کر بعض لوگوں کو لائیں گے اور پھر تمہیں دکھائیں گے کہ ہم اُن سے کیسا پیار کرتے ہیں۔گویا اس میں اصل مضمون مومنوں کو غیرت دلانا ہے۔ورنہ خود مومنوں کے لئے بھی یہ مقام ہوتا ہے اور رسول تو سب کے سب اس دوسرے گروہ میں شامل ہوتے ہیں اور خدا کی خاص تربیت کے نیچے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے متعلق یہ مشہور ہے کہ اُن کا کوئی استاد نہیں ہوتا۔لوگوں نے حماقت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ اُن کو الف۔ب پڑھانے والا بھی کوئی نہیں ہو تا حالا نکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلق باللہ کے بنیادی اصول وہ کسی پیر اُستاد سے نہیں سیکھتے۔اللہ تعالیٰ اُن کے دل میں یہ اصول خود ودیعت کرتا ہے اور خود انہیں روحانیت کے اسرار سے واقف کرتا ہے۔پس نبی کا استاد نہ ہونے کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ اُن کو روحانی علوم سکھانے والا کوئی استاد نہیں ہوتا۔باقی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو لوگ سکھاتے ہیں جیسے میں اس وقت لیکچر دے رہا ہوں