انوارالعلوم (جلد 23) — Page 172
انوار العلوم جلد 23 172 تعلق باللہ اسی طرح بندے اور خدا کی محبت میں بھی ایک جوڑ اور تعلق ہوتا ہے۔فرماتا ہے اِن كُنتُم تُحِبُّونَ۔اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تمہاری یہ محبت تب ثابت ہو گی جب تم ہمارے بتائے ہوئے طریق کے مطابق محبت کرو گے اگر تم اُس طریق کے مطابق چلو گے تب ہم مانیں گے کہ تم ہم سے محبت کرتے ہو ورنہ نہیں۔اب سوال پیدا ہو تا تھا کہ ہمارے دل کی تو یہی خواہش ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کریں مگر ہم کریں کس طرح اس کا جواب یہ دیا کہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع بن جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔یہ محبت کیسی ہے۔بندہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرے مگر اُس کے راستہ میں روک پیدا ہو جاتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یوں محبت کرو۔پس ایک محبت وہ ہے جو بندے کی طرف سے شروع ہوتی ہے اور بعض ذرائع اختیار کر کے حاصل ہوتی ہے اور آخر اللہ تعالیٰ بھی اُس بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔یہ محبت کسی کہلاتی ہے۔یاد رہے کہ اس آیت میں فاتبعونی فرمایا ہے فَاحِبُونِی نہیں فرمایا کیونکہ محبت جذبات سے تعلق رکھتی ہے اور جذبات اپنی مرضی سے پیدا نہیں کئے جاسکتے۔جبر اور زور سے اعمال کئے جاسکتے ہیں۔اس لئے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر وجو جبر سے کی جاسکتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا اور اس محبت کے بدلہ میں تمہاری محبت جو خدا تعالیٰ سے ہے بڑھنے لگے گی۔دوسری محبت موہبت کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور بندہ کو گھیر لیتی ہے۔اس محبت کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِيَ اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَابِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - 70 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اے مومنو! اگر تم میں سے کوئی شخص مرتد ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے بدلہ میں ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے وہ محبت کرے گا اور جو اس سے محبت کرے گی