انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 128

انوار العلوم جلد 23 128 تعلق باللہ حنوک کو آسمان پر اُٹھا لیا اور آسمانی خزانوں کا اس کو نگران اور فرشتوں کا سردار مقرر کر دیا اور خدا کے تخت کے سامنے خاص مصاحب کے طور پر وہ مقرر کیا گیا۔اُس کو سب راز معلوم ہیں اور فرشتے اُس کی پشت پر ہیں اور وہ خدا کا منہ ہے اور وہ خدا کے احکام کو دنیا میں جاری کرتا ہے"۔* پھر بائبل میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے ساتھ کشتی کی اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کو گر الیا یعنی خدا اہار بھی گیا۔اور یہ کوئی عجیب بات نہیں۔دراصل یہ ایک کشفی واقعہ ہے کوئی لغو اور بیہودہ قصہ نہیں۔بچوں کے ساتھ گھروں میں روزانہ ایسا ہوتا ہے کہ ماں باپ ہنسی مذاق میں اُن کے ساتھ کشتی کرتے ہیں اور پھر کشتی کرتے کرتے خود گر جاتے ہیں اور بچہ اُن کے سینہ پر سوار ہو جاتا ہے اور وہ قہقہہ مار کر کہتا ہے کہ میں نے ان کو گرا لیا۔اسی طرح اللہ میاں نے بھی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ضرور کشتی کی ہو گی اور پھر خدا تعالیٰ محبت اور پیار کے انداز میں خود ہی گر گیا ہو گا اور یعقوب علیہ السلام نے قہقہے مارے ہوں گے کہ میں نے خدا کو بھی گر الیا۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام آئے۔اُن کی زندگی کی تاریخ جو انجیل میں ہے اُس سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ وہ خدا سے ملے۔چنانچہ اُن کا خدا کو باپ کہنا اور اپنے آپ کو اُس کا بیٹا کہنا صاف بتاتا ہے کہ اُن کا خدا تعالیٰ سے ایسا ہی تعلق تھا جیسے دنیا میں ماں باپ اور بیٹوں کے درمیان ہوتا ہے۔ہندوؤں نے خدا تعالیٰ کو زیادہ تر ماتا کی شکل میں پیش کیا ہے مگر بہر حال ہندو مذہب بھی خدا تعالیٰ کے تعلق اور اُس کے پیار کا قائل ہے۔اسلام نے بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو ماں اور باپ کی محبت سے مشابہت دی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ماں اور باپ کا بھی اپنے بچہ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اسی طرح زرتشتی مذہب لے لو، بدھ مذہب لے لو، سب میں یہی نظر آئے گا