انوارالعلوم (جلد 22) — Page 72
انوار العلوم جلد ۲۲ ۷۲ تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب کو اس سے حیرت ہوئی۔عکرمہ نے کہا کہ وہ شخص جو میرے جیسے دشمن کو معاف کرنے کیلئے تیار ہو گیا ہے اور وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ میں اپنا مذہب تبدیل کر کے اس کے مذہب میں داخل ہو جاؤں وہ عام انسان نہیں ہو سکتا وہ یقیناً خدا کا رسول ہے اس لئے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکرمہ! میں نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اگر تمہاری کوئی خواہش ہو تو بیان کرو! اگر وہ ہماری طاقت میں ہوئی تو ہم اسے پورا کریں گے۔لیکن وہ شخص دنیاوی و جاہت کیلئے اپنی ساری عمر لڑ تا رہا کہنے لگا يَا رَسُولَ اللہ ! مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں آپ دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ میرے تمام گناہ کی معاف کر دے۔یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو عکرمہ میں پیدا ہوا۔پس مخالفت گوراستی سے دور لے جانے والی ہے لیکن یہ بعض اوقات راستی کی طرف لانے کا موجب بھی بن جاتی ہے۔دنیا احمدیت کی مخالفت اس لئے نہیں کرتی کہ یہ سچی ہے بلکہ وہ اس لئے مخالفت کرتی ہے کہ وہ یہ بجھتی ہے یہ جھوٹ ہے۔ہاں کچھ صاحب اغراض بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے احمدیت کو قبول کر لیا تو ہماری نمبر داریاں اور حکومتیں جاتی رہیں گی لیکن مخالفین کا اکثر حصہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم خدا اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔آپ سمجھتے ہیں کہ اِن لوگوں کا ایمان لانا بھی آسان ہے اور ان کا قابلِ رحم ہونا بھی یقینی ہے۔اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ ہم خدا اور اس کے رسول کے مخالف نہیں تو اُن کی مخالفت عقیدت سے بدل جائے گی اور اُن کی حالت قابلِ رحم اس لیے ہے کہ وہ ہماری اس لئے مخالفت نہیں کرتے کہ ہم ان کے خدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں بلکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم ان کے خدا اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔گویا وہ خدا اور اُس کے رسول کی خاطر ہماری مخالفت کر رہے ہیں اور جو خدا اور اُس کے رسول کی خاطر ہماری مخالفت کر رہا ہے وہ ایک حد تک ہمارے لئے قابل عزت بھی ہے کیونکہ اُس کا جذ بہ نیک ہے۔پس یہاں سے فارغ ہو کر اپنے اپنے علاقہ میں جاؤ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم کرو تبلیغ کرو اور کوشش کرو کہ مرکز کی آواز کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ہمارے نوجوان ابھی بہت پیچھے ہیں۔ہمارے ہر