انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 71

انوار العلوم جلد ۲۲ اے تربیتی کورس کے اختتام پر احمدی نوجوانوں سے خطاب پر وہ آپ کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اب اسی مخالفت کی وجہ سے مکہ چھوڑ کر باہر چلا گیا ہے۔يَا رَسُولَ الله ! وہ اسلام کی اس لئے مخالفت کر رہا ہے کہ وہ سمجھتا ہے یہ دین جھوٹا ہے۔کیا یہ بہتر ہوگا کہ آپ کا ایک رشتہ دار غیروں میں دھکے کھاتا پھرے یا یہ بہتر ہوگا کہ وہ آپ کیلئے قربانیاں کرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عکرمہ کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا۔عکرمہ کی بیوی نے دوبارہ عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! عکرمہ اسلام سے اتنا متنفر ہے کہ اگر آپ نے فرمایا کہ اُسے یہاں آ کر مسلمان ہونا پڑے گا تو وہ نہیں آئے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم اُسے مسلمان ہونے کیلئے نہیں کہیں گے۔عکرمہ حبشہ کی طرف بھاگ رہا تھا اور قریب تھا کشتی میں سوار ہو جائے کہ اُس کی بیوی وہاں پہنچی۔اُس کی نے یہ کہا میرے خاوند ! تم مکہ کے ورچول رولر (VIRTUAL RULER) کے بیٹے تھے اور اب غیروں میں دھکے کھاؤ گے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ تم غیروں میں دھکے کھانے کی بجائے اپنے ایک رشتہ دار کی اطاعت کر لو؟ عکرمہ نے جواب دیا میں اسلام کا دشمن ہوں اور ساری عمر دشمنی کرتا رہا ہوں اب جب مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے وہ میرے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہم اُن کے ساتھ کیا کرتے تھے۔اُس کی بیوی نے کہا میں یہ بات کرتی آئی ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم واپس چلے آؤ تو آپ معاف فرما دیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ جی چاہے تو مسلمان ہو جائے ورنہ اُسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔عکرمہ نے تعجب سے کہا کیا یہ بات سچی ہے؟ اُس کی بیوی نے کہا میں نے ڈو بد و باتیں کی ہیں۔چنانچہ وہ واپس آ گیا اور کہا مجھے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس لے چلو۔چنانچہ وہ اُسے آپ کے پاس لے گئی۔عکرمہ نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے کیا یہ ٹھیک ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے ٹھیک کہا ہے۔عکرمہ نے کہا میری بیوی نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ مجھے اپنے مذہب میں داخل ہونے کیلئے مجبور نہیں کریں گے کیا یہ ٹھیک ہے آپ نے فرمایا ، ہاں اس نے ٹھیک کہا ہے۔یہ سنتے ہی عکرمہ کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے کہا۔اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ـ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔