انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 658

انوار العلوم جلد ۲۲ اتحاد المسلمین انہوں نے آپس میں اتحاد کرنا ہے تو پھر اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا فرض ہے کہ وہ سوچیں اور غور کریں کہ کیا کوئی ایسا پوائنٹ بھی ہے جس پر وہ متحد ہو سکتے ہیں اور اگر کوئی ایسا پوائنٹ مل جائے تو وہ اس پر اکٹھے ہو جائیں اور کہیں کہ ہم یہ بات نہیں ہونے دیں گے۔مثلاً یہ سب مُمالک اس بات پر اتحاد کر لیں کہ ہم کسی مسلم ملک کو غلام نہیں رہنے دیں گے اور بجائے اس کے کہ اس بات کا انتظار کریں کہ پہلے ہمارے آپس کے اختلافات دُور ہو جائیں وہ سب مل کر اس بات پر اتحاد کر لیں کہ وہ کسی ملک کو غلام نہیں رہنے دیں گے اور سب مل کر اس کی آزادی کی جد و جہد کریں گے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کو دعوت دی تھی کہ آؤ ہم تو حید پر جو ہم سب میں مشترک ہے متحد ہو جائیں اسی طرح ہم سب مسلمان اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ ہم کسی کو غلام نہیں رہنے دیں گے۔اختلافات بعد میں دیکھے جائیں گے۔اسی طرح پاکستان کے مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے ہیں اور ان میں کئی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ان سب ممالک میں کوئی چیز مشترک بھی ہے وہ اس پر متحد ہو سکتے ہیں مثلاً یہی بات لے لو کہ ہم نے پاکستان کو ہندوؤں سے بچانا ہے یا کشمیر حاصل کرنا ہے تم ان چیزوں کو لے لو اور بجائے آپس میں اختلاف کرنے کے ان چیزوں پر متحد ہو جاؤ بعد میں ملنے ملانے سے دوسرے اختلافات بھی دُور ہو جائیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ اختلاف کو لے لیا جاتا ہے اور اتحاد کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو جس سے اُسے اختلاف ہو واجب القتل قرار دے دیتا ہے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔کیا یہ لوگ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مومن ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی کہتے ہیں کہ آؤ ہم تو حید پر جو ہم سب میں مشترک ہے اکٹھے ہو جائیں لیکن تم ایسا نہیں کرتے اور ویس کے تاجر کی طرح جب تک تم دوسرے کا گوشت نہ کاٹ لو اپنی جگہ سے نہیں ہٹتے۔عالم اسلامی کا اتحاد بھی اسی طرح ہوگا۔اگر مسلم ممالک آپس میں اتحاد کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ اختلاف کے باوجود ہم دشمن سے اکٹھے ہو کر لڑیں گے۔آؤ ہم بھی اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ