انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 653 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 653

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۵۳ اتحاد المسلمین ہیں اور لوگ شکوہ بھی کرتے ہیں پھر تم کیا کرو۔فرمایا۔واصبر وا۔تم صبر کرو اور مجھ پر اُمید رکھو۔میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔پھر فرماتا ہے واعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ولا تفرقوا اے مسلمانو ! تم سارے مل کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔اگر تم نے تفرقہ کیا تو اس کے نتیجہ میں تمہاری طاقت زائل ہو جائے گی۔یہ اجتماعی اتحاد کی دعوت ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے مذہب کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں وہ بے دین ہیں۔گویا قرآن کریم اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں بھی اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ - سے میری اُمت کا اختلاف رحمت ہے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اختلاف کو بجائے عذاب کے رحمت قرار دیتے ہیں اور اختلاف کرنے والے دونوں فریق کو اپنی اُمت قرار دیتے ہیں لیکن دوسری طرف آپ فرماتے ہیں۔مَنُ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبراً فَلَيْسَ مِنَّا " جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہو اوہ ہم میں سے نہیں۔گویا آپ نے ایک طرف یہ کہا کہ اختلاف رحمت ہے اور دوسری طرف یہ کہا کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہو گا وہ ہم میں سے نہیں۔یعنی وہ مسلمان نہیں رہے گا۔ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! جب تفرقہ ہو گا تو میں کیا کروں۔کیا میں تلوارلوں اور لوگوں کا مقابلہ کروں۔آپ نے فرمایا نہیں۔اُس صحابی نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! پھر میں کیا کروں؟ تو آپ نے فرمایا۔عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ ـ ۱۵ جس طرف جماعت ہو اسی طرف تم چلے جاؤ۔گویا آپ نے ایک طرف انفرادیت پر اس قدر زور دیا ہے کہ اختلاف امت کو رحمت قرار دے دیا اور دوسری طرف یہ شدت ہے کہ اگر تم پر ظلم بھی کیا جائے تب بھی تم اختلاف نہ کرو بلکہ جماعت کا ساتھ دو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم دونوں نے اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے اصول ہیں جنہیں اختیار کر کے ہم اتحاد اور