انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 644

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۴ اتحاد المسلمین ایک شخص جنگل میں جاتا ہے تو کہتا ہے درخت ہیں اور کیا ہے لیکن ایک فاریسٹ آفیسر جنگل میں جاتا ہے تو وہ کہے گا وہاں اتنی قسم کی بوٹیاں ہیں، فلاں میں کیمیکل اتنا ہے اور فلاں میں اتنا ہے۔پھر اتنی قسم کے درخت ہیں جو فلاں فلاں کام آ سکتے ہیں لیکن ایک عام آدمی جنگل میں سے گزرے تو وہ سوائے اس کے کہ بتائے یہ جنگل ہے اور کچھ نہیں بتا سکے گا۔ایک ماہی گیر دریا پر جائے تو وہ کہے گا اس دریا میں اتنی مچھلی ہے اور فلاں فلاں قسم کی مچھلی ہے وہ یہ بھی بتائے گا کہ فلاں فلاں قسم کی مچھلی میں کانٹا ہے، فلاں مچھلی کے پکوڑے اچھے تکے جاسکتے ہیں اور فلاں قسم کی مچھلی پکانے میں مزیدار ہوتی ہے۔ہمارے نزدیک تو وہ محض ایک دریا ہوتا ہے لیکن ایک ماہی گیر اسی دریا کے متعلق بیسیوں باتیں بتا دے گا۔غرض ہر فن کا واقف جب کوئی چیز دیکھے گا تو وہ اپنے فن کے مطابق اس میں اتنے اختلاف بیان کرے گا کہ دوسرا آدمی ایسا نہیں کرسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ اختلاف ایک جاہل شخص کو نظر نہیں آتے لیکن عالموں کو لاؤ ، ماہرین کو لاؤ ، رنگوں کے ماہرین کو لاؤ ، ڈاکٹروں کو لاؤ ، فارسٹ افسروں کو لاؤ، نباتات کے ماہرین کو لاؤ پھر میری مخلوق کو ان کے سامنے پیش کرو تو وہ اس کی بیسیوں قسمیں بتائیں گے اور تمہیں ہر چیز میں اختلاف ماننا پڑے گا اور یہ اس خدا نے پیدا کیا ہے جس نے متنوع اور رنگ دار زندگی کو پیدا کیا ہے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے قدرتی اور ضروری اختلافات کی مثالیں بیان کر دی ہیں اگر ان اختلافات کو مٹایا جائے تو زندگی بے کیف ہو جاتی ہے۔پھر میں نے بتایا ہے کہ بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو مٹانا نتباہی کا موجب ہوتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے: وَ انْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ ليَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جا تهُمُ الْبَيِّنْتُ بَغيَّا بَيْهم ، فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فيهِ مِنَ الْحَقِّ بِاذْيهِ ، وَاللهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ بعض جگہ اختلاف ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو جھوٹ کی طرف لے جاتے ہیں یا سچائی کی طرف لے جاتے ہیں فَهَدَی الله الّذينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ خدا تعالیٰ ان لوگوں