انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 643 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 643

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۴۳ اتحاد المسلمین بعض ایک دوسرے کے ارد گرد گھوم رہے ہوں گے۔پھر زمین کی طرف دیکھو وہاں باغ ، درخت ، بُوٹیاں اور جانور نظر آتے ہیں ایک ہی پانی ہو گا لیکن کوئی پھل کھٹا ہوتا ہے کوئی میٹھا ہوتا ہے اور کوئی کڑوا ہوتا ہے۔یہ بھی ایک اختلاف ہے اور یہ اختلاف ہر جگہ نظر آ رہا ہے۔پھر بولیاں دیکھ لو بھانت بھانت کی بولی بولی جاتی ہے۔پھر رنگوں کا اختلاف ہے کوئی زرد نظر آتا ہے تو کوئی سُرخ نظر آتا ہے، کوئی کالا نظر آتا ہے تو کوئی سفید نظر آتا ہے۔فرمایا یہ سب نشانات ہیں اگر تم ان پر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اس کا جلوہ ذرہ ذرہ میں ظاہر ہو رہا ہے۔پھر کئی اختلاف بہت باریک ہوتے ہیں۔انہیں پہچانا نہیں جاتا۔دو بھائی ہوتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ ایک بھائی کا نام غلام قادر ہے اور دوسرے کا نام غلام رسول ہے لیکن اگر آپ کا امتحان لیا جائے کہ بتاؤ ان دونوں میں کیا فرق ہے تو تم اسے بیان نہیں کر سکو گے۔ان دونوں کے درمیان جو فرق ہے اسے آنکھ محسوس کرتی ہے زبان سے اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔پھر آواز کا فرق ہے۔کان آوازسُن کر پہچان لیتا ہے کہ یہ فلاں کی آواز ہے۔ہال میں کتنے آدمی بیٹھے ہیں۔اب ہال کے باہر کوئی آدمی کھڑا ہو اور ہال کے اندر کوئی دو آدمی آپس میں بات کریں تو وہ کہہ دے گا کہ یہ آواز دوسری آواز سے مختلف ہے۔غرض بعض اختلاف ایسے ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا۔کان ، ناک اور آنکھ اس اختلاف کو ظاہر کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قد وقامت ، رنگوں ، بوٹیوں ، درختوں ، پہاڑوں اور دریاؤں وغیرہ میں جو فرق ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔رنگوں کو لے لو ایک ایک رنگ کئی قسم کا ہوتا ہے۔عورتیں بازار میں جاتی ہیں اور بزاز انہیں سُرخ رنگ کا کوئی تھان دکھاتا ہے تو وہ کہتی ہیں یہ سُرخ نہیں ذرا گہرائر خ رنگ والا کپڑا دو۔پھر وہ ایک اور کپڑا جس کا رنگ سُرخ ہوتا ہے دکھاتا ہے تو وہ کہتی ہیں یہ نہیں اس سے ذرا ہلکے رنگ کا کپڑا ہمیں چاہئے۔گویا ایک ایک رنگ سے آگے بیسیوں قسمیں نکل آتی ہیں۔پھر سبز رنگ ہے ، زرد رنگ ہے، ان سب کی بیسیوں اقسام ہیں۔غرض دُنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو ممتاز نہیں۔فرمایا یہ اختلاف اور امتیاز نشان ہے جاننے اور سمجھنے والوں کے لئے۔