انوارالعلوم (جلد 22) — Page 605
انوار العلوم جلد ۲۲ سیر روحانی (۶) اور برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اس کثرت کے ساتھ دی گئی کہ اس کی مثال نہ موسی کی زندگی میں مل سکتی ہے نہ عیسی کی زندگی میں مل سکتی ہے نہ داؤد اور سلیمان کی زندگی میں مل سکتی ہے اور نہ کسی اور نبی کی زندگی میں مل سکتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تفصیلی طور پر دیکھا جائے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی چارا غراض بتلائی کی بعثت کی چار اغراض گئی تھیں تلاوت آیات تعلیم کتاب تعلیم حکمت اور تزکیہ نفوس چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيته وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة - وَاِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبين الا یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر یہ بڑا بھاری احسان کیا کہ اُس نے اُن میں ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے انہیں روشناس کرتا ہے ان کا تزکیہ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور یقیناً وہ اس سے پہلے ایک کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ہر کمال میں محمد رسول اللہ اس آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چار کام بتلائے گئے ہیں اور درحقیقت ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منفرد ہونا انہی چاروں امور کی سرانجام دہی کے لئے آیا کرتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپ نے دنیا کے ہر نبی سے تلاوت آیات بھی زیادہ کی تعلیم کتاب بھی زیادہ دی تعلیم حکمت بھی زیادہ پیش کی اور تزکیہ نفوس بھی زیادہ کیا۔گویا ہر کمال میں آپ کو کوثر عطا کیا گیا اور ہر خوبی میں آپ کو منفر د رکھا گیا۔امور غیبیہ کے متعلق محمد رسول اللہ عربی زبان میں آیۃ کے جہاں اور بہت سے معنی ہیں وہاں اس کے ایک معنی اس صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی چیز کے بھی ہوتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی طرف راہنمائی کرے چنانچہ قرآن کریم میں نازل شد و فقرات کو بھی اسی لئے آیات کہا