انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 604

انوار العلوم جلد ۲۲ ۶۰۴ سیر روحانی (۶) آگے آگئیں ، اگر کسی جگہ نو جوانوں کا خون قوم کو درکا ر تھا تو نو جوان آگے نکل آئے ، اگر قوم کی ترقی کے لئے عابد و زاہد لوگوں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑے بڑے شب بیدار اور عابد وزاہد نفوس عطا فرمائے غرض کونسی ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری نہ کی۔اخلاص اور فدائیت میں پھر اخلاص اور فدائیت کولو تو اس میں بھی جو برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو ملی وہ صحابہ کی امتیازی شان کسی اور نبی کے متبعین کو نہیں ملی۔موسیٰ کے ساتھیوں نے ایک نہایت ہی نازک موقع پر یہ کہہ دیا کہ فاذْهَبُ انْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إنَّا هَهُنَا قاعدون 19 اے موسیٰ تو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جاں نثار عطا فرمائے جنہوں نے بڑی دلیری سے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔۱۱۰ غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر خیر اور برکت کی کثرت عطا کی۔اُس نے روحانی لحاظ سے ایک طرف سے آپ کو وہ شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک منسوخ نہیں ہو سکتی اور دوسری طرف آپ کو وہ بلند مقام بخشا کہ اب قیامت تک کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل نہ ہو۔اور جسمانی لحاظ سے اُس نے آپ کو خدام کی اتنی کثرت بخشی کہ سارا مکہ آپ کی زندگی میں آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا۔اسی طرح مال ودولت کے لحاظ سے اس مال و دولت اور رُعب ودبدبہ قدر کثرت بخشی کہ قیصر و کسری کے خزائن مسلمانوں میں تقسیم ہوئے ، رُعب اور دبدبہ اس قدر عطا فر مایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنکر گھر بیٹھے دشمن کا دل لرز جاتا اور اُس کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا تھا۔غرض ہر خیر