انوارالعلوم (جلد 22) — Page 584
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۴ سیر روحانی (۶) کھڑا کر دیتا۔بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ اُس نے کئی لاکھ آدمی قتل کیا ہے مگر اب ایک ذلیل سے ذلیل انسان بھی جب تیمور کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے لنگڑا تیمور‘ حالانکہ اُس کے زمانہ میں کسی کو یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اسے لنگڑا تیمور کہے وہ شہنشاہ کہلاتا تھا اور بڑے بڑے حکمران اُس کے خوف سے کانپتے تھے۔غرض وہ بادشاہ جن کی اپنے زمانہ میں بڑی ہیبت صحابہ کی بے مثال عظمت تھی جن کا نام سنکر ہزاروں میل پر لوگ کا آپ اُٹھے اُن کا نام آج انتہائی لا پروائی کے ساتھ ایک معمولی اور بے حیثیت آدمی بھی لے لیتا ہے اور کئی تو ایسے ہیں جن کا نام بھی آج کوئی نہیں جانتا مگر وہ غریب بکریاں اور اونٹ چرانے والے صحابہ جنہوں نے غربت میں اپنی عمر میں گزار دیں آج ان کا نام آتا ہے تو رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کہے بغیر ایک مسلمان کا دل مطمئن ہی نہیں ہوتا۔حضرت ابو ہریرہ کی فاقہ کشی حضرت ابو ہریرہ کو ہی دیکھ لو وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور جب میں شدتِ ضعف سے بیہوش ہو جا تا تھا تو لوگ میرے سر پر جھو تے مارتے اور سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے پھر حضرت ابو ہریرہ کسی اعلیٰ خاندان میں سے نہ تھے کوئی نامور لیڈر یا مشہور ادیب نہ تھے، کوئی فوجی ما ہر یا سیاسی نفوذ رکھنے والے انسان نہ تھے مگر آج بھی ہماری یہ کیفیت ہے کہ ابو ہریرہ کا نام آتا ہے تو رضي الله عنہ کہے بغیر دل کو چین ہی نہیں آتا۔حضرت ابوبکر رضي الله عنه کا بلند مقام اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جو حالت تھی وہ خود ان کے باپ کی شہادت سے ظاہر ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے باپ کا نام ابوقحافہ تھا جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو اُس وقت ابو قحافہ مکہ میں تھے کسی شخص نے وہاں جا کر ذکر کیا کہ ابو بکر نعرب کا بادشاہ ہو گیا ہے۔ابوقحافہ مجلس میں بیٹھے تھے کہنے لگے کونسا ابوبکر ؟ اُس نے کہا وہی ابو بکر قریشی۔کہنے لگے کونسا قریشی ؟ اُس نے کہا وہی جو