انوارالعلوم (جلد 22) — Page 583
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۸۳ سیر روحانی (۶) کہے بغیر نہیں رہتا اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا چلا جائے گا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں دنیا میں لوگ نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور پھر اُن قربانیوں کے بعد جو بدلہ اُنہیں ملتا ہے وہ نہایت ہی ذلیل اور ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے انعامات اتنے اہم ہوتے ہیں اور اُن کا دائرہ اتنا وسیع ہوتا ہے کہ اُن کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں مثلاً یہی بات دیکھ لو تیرہ سو سال کا زمانہ گزرنے کے باوجود آج بھی صحابہ کا ذکر آئے تو ہم رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ کہے بغیر نہیں رہ سکتے۔اب یہ بھی ایک خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ایسا ہی جیسے خان صاحب یا خان بهادر یا سر یا ڈیوک یا مارکوس یا ارل وغیرہ ہیں مگر سوچو تو سہی کتنے خان بہادر یا سر یا ڈیوک یا مارکونٹس یا ارک ہیں جن کا نام دنیا جانتی ہے یا کتنے بادشاہ ہیں جن کا نام دنیا خطاب سمیت لیتی ہے؟ بڑے بڑے بادشاہ دنیا میں گزرے ہیں مگر آج لوگ اُن کا نام نہایت بے پروائی سے لیتے ہیں۔سکندر، دارا ، اور تیمور کا انجام سکندر کتنا بڑا بادشاہ تھا یونان سے وہ چلتا ہے اور ہندوستان تک فتح کرتا چلا آتا ہے اور بڑی بڑی زبر دست حکومتوں کو راستہ میں شکست دیتا ہے مگر آج ایک غریب اور معمولی مزدور بھی سکندر کا نام نہایت بے پروائی سے لیتا ہے۔بچے بھی سکندر سکندر کہتے پھر تے ہیں اور کوئی ادب کا لفظ اُس کے لئے استعمال نہیں کرتا۔دارا بھی ایک عظیم الشان بادشاہ تھا اور گوا سے سکندر کے مقابلہ میں شکست ہوئی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بھی زبردست سلطنت کا مالک تھا اور چین تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی تھی مگر آج لوگ اسے دارا دارا کہتے پھرتے ہیں بادشاہ کا لفظ بھی اُس کے متعلق استعمال نہیں کرتے۔تیمور جو ایک زمانہ میں دنیا کے لئے قیامت بن گیا تھا آج اسے ساری دنیا تیمور لنگ یعنی لنگڑا تیمور کہتی ہے حالانکہ اپنے زمانہ میں اُس کی اتنی ہیبت تھی کہ جب وہ حملہ کرتا تو گشتوں کے پشتے لگا دیتا اور بعض جگہ تو لوگوں کو مار مار کر اُن کی لاشوں کو جمع کرتا اور مینار