انوارالعلوم (جلد 22) — Page 542
انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۲ سیر روحانی (۶) دنیا میں غلاظت اور اول ، اے رسول ! گندگی کو مٹادے ، گندگی کو چھوڑ گندگی مٹادینے کا حکم منانے کے یہ معنے ہیں کہ لوگ گندے ہیں تو ان کی گندگی کو دور کر۔اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے جب ہجر کے معنے کاٹ دینے کے بھی پائے جاتے ہیں ، جب ھجر کے معنے مٹا دینے کے بھی پائے جاتے ہیں، جب ھجر کے معنے تو ڑ دینے کے بھی پائے جاتے ہیں تو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلاظت میں کیوں پھنسانا چاہتے ہو۔حقیقت تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں، لوگ کہتے ہیں یہ ہما را دوست ہے یہ ہمارے عیبوں کو چھپاتا ہے مگر یہ مولوی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بنے پھرتے ہیں اور پھر جھوٹے عیب آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔جب ھجر کے معنے کاٹ دینے کے بھی ہیں تو وہ کیوں ایسے معنے نہیں لیتے جو محمد رسول اللہ کی شان کے مطابق ہیں کہ اے محمد رسول اللہ ! تو گندگی کو کاٹ ڈال یعنی دنیا سے اس کا نام ونشان مٹا دے اور یہ بالکل ٹھیک ہے ساری دنیا گندی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیا گیا کہ اس گندگی کو مٹا دے اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کس طرح عمل کیا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تاریخ میں یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ آپ نے حضرت خدیجہ سے یہ کہا ہو کہ صابن لایا جائے اور آپ نے صابن مل مل کر میل اُتارنی شروع کر دی ہو اور پھر حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہو مگر جو کچھ میں کہتا ہوں وہ کتب اسلام میں دے نہیں ! چھوڑ نے کے یہ معنے ہیں کہ گندہ ہے اور لفظاً لفظاً موجود ہے۔رِجُز کے معنے ہوتے ہیں گندگی۔لیکن گندگی سے مراد صرف میں نہیں بلکہ رجسز کے معنے ہیں اشیائے ماحول کی گندگی ، جسم کی گندگی ، دماغ کی گندگی ، دل کی گندگی ، خیالات کی گندگی ، زبان کی گندگی ، یہ ساری باتیں رجز کے اندر شامل ہیں اب یہ کتنا شاندار کام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کیا گیا ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے تو آپ کی کتنی شان بلند ہو جاتی ہے،